سوئٹزرلینڈ کے مشہور اسکی ریزورٹ ٹاؤن میں سالِ نو کی خوشیاں اُس وقت ماتم میں تبدیل ہو گئیں جب نیو ائیر نائٹ کے موقع پر ایک بار میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد ہلاک اور 115 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ سالِ نو کی تقریب کے دوران پیش آیا، جب بار میں بڑی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی سیاح موجود تھے۔ آگ لگتے ہی بار میں شدید افراتفری مچ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پورے ہال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔سوئس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اس حادثے میں فرانس کے 8 شہری تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ آگ ویٹر کی ایک غلطی کے باعث لگی، جبکہ بار میں لکڑی کا فرش ہونے کے سبب آگ تیزی سے پھیل گئی اور چند ہی منٹوں میں صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔ ریسکیو اداروں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کی سنگینی کے پیشِ نظر سوئس صدر نے دارالحکومت برن سمیت ملک بھر میں 5 روز کے لیے قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ میں بار آتشزدگی کے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں سوئس حکومت اور سوئٹزرلینڈ کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔
