ملی ترانہ
ہم پاک وطن والے ہم ڈرتے نہیں سن لو
پیچھے تو کبھی بھی ہم پھر ہٹتے نہیں سن لو
دشمن کے لیے ہم ہیں اک خواب بھیانک سا
یاروں کے لیے لیکن دل جان فدا اپنے
ملت ہیں محمد کی اسلام کے شیدائی
رکھتے ہیں نشانے پر دشمن کو سدا اپنے
ہم پاک وطن والے ہم ڈرتے نہیں سن لو
پچھتاؤ گے تم آخر کج فہمی پہ صدیوں تک
لیکن نہیں ملنے کا جز سوزِ زیاں تم کو
اب فکر کرو اپنی اے کفر کے سوداگر
ہم لوگ بنا دیں گے عبرت کا نشاں تم کو
ہم پاک وطن والے ہم ڈرتے نہیں سن لو
دشمن کو بتا دیں گے ہم شیر جواں سارے
جڑ کاٹ کے رکھ دیں گے کافر کی بتاتے ہیں
افسوس کرو گے تم مَل مَل کے ہتھیلی کو
ہم آہنی ہاتھوں سے شمشیر چلاتے ہیں
ہم پاک وطن والے ہم ڈرتے نہیں سن لو
افواج ہماری سے خائف ہے جہاں سارا
پھر خیر نہیں اس کی جس نے ہمیں للکارا
ہمت کے دھنی ایسے دنیا میں نہیں ملتے
اقبال کے شاہیں ہیں قائد کا یقیں لوگو
ہم پاک وطن والے ہم ڈرتے نہیں سن لو
ہم توڑ کے رکھ دیں گے وہ ہند کہ ہو خیبر
مودی کہ یہودی ہو گاڑیں گے زمیں اندر
سب سازشی لوگوں کو طاقت سے بچھاڑیں گے
ملنے کا نہیں تم کو دنیا میں کہیں مندر
ہم پاک وطن والے ہم ڈرتے نہیں سن لو
صفدر بھٹی
