کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے قیام میں سندھ نے صف اول کا کردار ادا کیا اور آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
مزار قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ آج گورنر سندھ اور کابینہ کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی اور پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے متحد رہنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 10 اکتوبر 1938 کو سندھ نے عیدگاہ میدان میں قرارداد پیش کی، جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد بھی سندھ نے ایک قرارداد پیش کی۔ پاکستان کے دفاع کے لیے قوم کے متحد ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے جب پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھا تو پوری قوم متحد ہوگئی، نوجوانوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسی اتحاد کو برقرار رکھنا چاہیے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ مسائل دنیا بھر میں ہوتے ہیں اور پاکستان بھی مختلف مسائل سے دوچار ہے، تاہم ہم یہ نہیں سمجھتے کہ سیاست میں ناکام ہوگئے ہیں۔
صوبوں کی تشکیل سے متعلق بحث پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کی بحث کوئی نئی بات نہیں، اس کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔ اگر کسی نے ایڈونچر ازم کرنا ہے تو وہ سندھ اسمبلی سے قرارداد منظور کروائے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ آئے اور کچھ لندن بھاگ گئے، لیکن یہ سندھ کی مٹی ہے اور ہم سندھ کی حفاظت کریں گے۔ اگر اس معاملے پر بحث کرنی ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں، تاہم ہم اپنے صوبے میں رہ کر عوام کی خدمت اور کام کریں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی جوہری طاقت کے بانی ہیں، انہوں نے شہادت قبول کی لیکن گھٹنے نہیں ٹیکے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی شہادت قبول کی مگر پاکستان کی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی مشکل وقت میں وزارت خارجہ کی ذمہ داری سنبھالی اور ملک کی نمائندگی کی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام پر ظلم ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی بھی مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لیا جائے۔
