میں ایک عورت ہوں
مگر میری تعریف
کسی لغت میں مکمل نہیں ملتی
میرے معنی ہمیشہ
کسی اور کے جملے میں
قید رہتے ہیں
میں ایک عورت ہوں
اور میری کہانی
کسی ایک دن کی نہیں
صدیوں کے سفر کی داستان ہے
میں ایک عورت ہوں
کبھی مجھے چار دیواری کے
اندر چپ رہنے کا ہنر سکھایا گیا
کبھی میری آنکھوں میں
خوابوں کی پوری کائنات آباد رہی
میں ایک عورت ہوں
میری کہانی صرف رشتوں
یا ذمہ داریوں کی محتاج نہیں
میں خود ایک کتاب ہوں
جو ہر صفحے پر
تاریخ کی دھندلی لکیروں میں
اپنے رنگ بھرتی ہے
میں ایک عورت ہوں
میں نے دیکھا ہے
ماں کی ہتھیلی پر
دن بھر کی تھکن
اور لب پر دعائیں
میں نے سنا ہے
بیٹی کے دل کی خاموش فریاد
بہن کی چھپی ہوئی آنکھوں کی گہرائی
اور اپنے ہی وجود کی تنہائی
میں ایک عورت ہوں
میں نے تاریخ کے
ہر ظلم کے خلاف اپنے قدم جمائے
اور ہر زخم سے نیا عزم پیدا کیا
خوف کو حوصلے میں بدلا
اور آنسوؤں کو روشنی میں پرویا
کیوں کہ
میں ایک عورت ہوں
میں ایک عورت ہوں،تحریر: سماویہ اعظم
