کراچی کے علاقے سولجر بازار میں عمارت گرنے کے واقعے میں گرفتار مالک محمد ارشاد کا ویڈیو بیان سامنے آ گیا ہے۔
ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے 18 سال قبل پپو بھائی سے عمارت تعمیر کروائی تھی اور یہ پختہ عمارت تھی۔ ملزم کے مطابق وہ خود بھی آٹھ سال تک اسی عمارت میں مقیم رہا۔ محمد ارشاد نے دعویٰ کیا کہ عمارت کی دیکھ بھال پر بھی تین سے چار لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے جبکہ گیس اور بجلی کے کنکشن بھی باقاعدہ لگوائے گئے تھے۔گرفتار مالک نے اپنے بیان میں کہا کہ ممکنہ طور پر کہیں سے گیس لیک ہو گئی ہوگی۔ اس کے مطابق پہلی منزل کے رہائشی شاہد سگریٹ نوشی کرتے تھے، گھر ایک جانب سے بند تھا جس کے باعث گیس جمع ہو گئی ہوگی۔ ملزم نے دعویٰ کیا کہ شاید گیس کی بو محسوس نہ کی گئی ہو اور ماچس جلانے سے دھماکہ ہوا ہو۔حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور عمارت کی تعمیر، دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سولجر بازار میں گیس لیکج کے باعث دھماکے سے عمارت گرنے کا واقعے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل باالسبب، املاک کا نقصان، غفلت، لاپرواہی اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں،مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ عمارت گرنے کے باعث کئی لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے،یاد رہے کہ گزشتہ روز سولجر بازار میں گیس لیکج کے باعث رہائشی عمارت میں ہونے والے دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے تھے۔
