وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ایف ایٹ میں ڈولفن اسکواڈ کے اہلکاروں کی جانب سے ایک میاں بیوی پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آنے کے بعد شہری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
پولیس کے مطابق واقعہ ایف ایٹ کے رہائشی سیکٹر میں اس وقت پیش آیا جب ڈولفن اسکواڈ کے اہلکاروں نے ایک شہری اور اس کی اہلیہ کو ان کے گھر کے باہر روکا اور معمول کی چیکنگ کے دوران شناختی کارڈ طلب کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ چیکنگ کے دوران فریقین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو شدت اختیار کرگئی۔عینی شاہدین کے مطابق بحث و تکرار کے بعد اہلکاروں نے شہری اور اس کی بیوی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند اہلکار شہری کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ خاتون کی جانب سے مزاحمت اور چیخ و پکار بھی سنائی دیتی ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ ترجمان کے مطابق اگر کسی اہلکار کی جانب سے اختیارات سے تجاوز ثابت ہوا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تشدد میں مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ آئی جی نے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے جو مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کرے گی۔آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور پولیس فورس میں احتساب کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اگر کسی اہلکار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے تو اس کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
