Baaghi TV

سوشل میڈیا نعمت بھی آزمائش بھی،تحریر: شمسہ رانی

ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو جس تیزی سے بدلہ ہے۔ اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ آج پوری دنیا ایک چھوٹی سی سکرین میں سمٹ آئی ہے۔ سوشل میڈیا نے فاصلے مٹا دیے۔ معلومات تک رسانی آسان کر دی اور سیکھنے کی بے شمار مواقع پیدا کیے لیکن ہر نعمت کی طرح اس کے ساتھ کچھ ایسے چیلنجز بھی وابستہ ہیں ۔جنہیں نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں خصوصا جب معاملہ ہماری نئی نسل کا ہو۔

چند پرس پہلے تک بچوں کی دنیا کھیل کے میدان ،کتابیں ،دوست اور خاندانی محفلیں ہوا کرتی تھیں ۔آج ان کی جگہ موبائل فون ،ویڈیو گیم ،اور سوشل میڈیا نے لے لی ہے ۔اکثر گھروں میں یہ منظر عام ہے کہ بچہ اس وقت تک کھانا کھانے پر امادہ نہیں ہو تا جب تک اس کے ہاتھ میں موبائل نہ ہو۔ خاموشی سے اسکرین پر نظر یں جمائے بیٹھا بچہ بظاہر مطمئن دکھائی دیتا ہے ۔مگر حقیقت میں وہ اپنی فطری سرگرمیوں ،تخلیقی صلاحیتوں اور سماجی روابط سے اہستہ اہستہ دور ہوتا جا رہا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں سے انکار ممکن نہیں آج کا بچہ دنیا کے بہترین تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ نئی زبانیں سیکھ سکتا ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار سکتا ہے۔ اور عالمی حالات سے باخبر رہ سکتا ہے۔ اس کا استعمال مناسب نگرانی اور اعتدال کے ساتھ کیا جائے تو یہ علم ،تحقیق اور شخصیت سازی کا موثر ذریعہ بن سکتا ہے ۔
تاہم
اس کے منفی اثرات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ غیر مناسب مواد تک آسان رسائی بچوں کی معصوم ذہنی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے ۔بہت سی ایسی معلومات اور مناظر ان کے سامنے وقت سے پہلے آ جاتے ہیں ۔جن کا ادراک ان کی عمر اور ذہنی بلوغت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے نتیجے میں ان کے رویوں ، سوچ اور ترجیحات میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں دوسری جانب مسلسل اسکرین کے استعمال سے نظر کی کمزوری ،جسمانی سستی بے خوابی اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔

سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بچوں کا تعلق کھیل کے میدانوں سے کمزور پڑتا جا رہا ہے ۔جسمانی سرگرمی نہ صرف صحت مند جسم بلکہ متوازن شخصیت کی بھی ضامن ہوتی ہے۔ جب بچہ دوڑنے کھیلنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے فطرت سے جڑنے کی بجائے گھنٹوں موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھا رہے تو اس کی جسمانی ذہنی اور سماجی نشوونما متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔
اس صورت میں ذمہ داری صرف بچوں پر عائد نہیں ہوتی۔ بلکہ والدین اساتذہ اور معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔بچوں کے لیے سکرین ٹائم کی مناسب حد مقرر کرنا، کھانے کی میز پر موبائل کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا کھیل کود مطالعہ اور خاندانی گفتگو کو روز مرہ زندگی کا حصہ بنانا وقت کی ایم ضرورت ہے۔ بچوں کو سوشل میڈیا سے مکمل طور پر دور کرنا شاید ممکن نہ ہو لیکن اس کا شعور کے ساتھ استعمال ضرور سکھایا جا سکتا ہے ۔
سوشل میڈیا نہ تو سراسر دشمن ہے اور نہ ہی مکمل نجات دہندہ یہ ایک طاقتور زریع ہے جس کا فائدہ یا نقصان ہمارے استعمال پر منحصر ہے۔اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو ٹیکنالوجی کے ساتھ اخلاق شعور،اعتدال اور ذمہ داری بھی سکھا دی تو یہی سوشل میڈیا ان کے روشن مستقبل کا زینہ بن سکتا ہے۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ ہم ایک ایسی نسل پروان چڑھائیں گے جو معلومات سے مالا مال مگر جذباتی سماجی اور اخلاقی طور پر کمزور ہوگی ۔
وقت کا تقاضایہ ہے کہ ہم بچوں کے ہاتھ میں صرف موبائل نہ دیں بلکہ انہیں صحیح سمت بھی دیں کیونکہ قوموں کا مستقبل صرف جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ باشعور نسلوں سے روشن ہوتا ہے۔

More posts