امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اصولی طور پر آبنائے ہرمز کو علاقائی نگرانی کے تحت دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق ہونے والی پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے ساتھ ساتھ پاکستان اور خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی سفارتی کوششوں کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے اس مجوزہ انتظام پر اصولی رضامندی ظاہر کی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو علاقائی نگرانی کے نظام کے تحت محفوظ بنایا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق تہران نے اس حوالے سے پاکستان کو بھی مثبت پیغام دیا ہے۔ پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے مختلف سطحوں پر کردار ادا کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے پر خدشات بڑھ گئے تھے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ تاہم اب مذاکرات میں پیش رفت کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔
اگرچہ ایران کی جانب سے اصولی آمادگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اس معاہدے کی حتمی شرائط، نگرانی کے طریقہ کار اور عمل درآمد کے حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔ امریکا، ایران یا دیگر متعلقہ ممالک کی جانب سے بھی اس خبر کی باضابطہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریق کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ پیش رفت نہ صرف خلیجی خطے میں امن کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی معیشت کو بھی استحکام فراہم کرنے میں مددگار ہوگی۔
آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران آمادہ، خطے میں اہم سفارتی پیش رفت
