پانچ ماہ تک جاری رہنے والی ایران کے خلاف جنگ کے بعد امریکی فوج کے جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی آ گئی ہے، جس سے مستقبل میں کسی ممکنہ تنازع کے لیے امریکی عسکری تیاریوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف تین ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی فوج نے جنگ کے دوران اپنے عالمی ذخائر میں موجود انتہائی درست نشانہ بنانے والے بیشتر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کر لیے ہیں۔ ان میں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم (ATACMS) اور جدید پریسیژن اسٹرائیک میزائل (PrSM) شامل ہیں، جو امریکی بری فوج کے اہم ترین سطح سے سطح پر مار کرنے والے ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔
دو ذرائع کے مطابق جنگ کے دوران ان میزائلوں کا استعمال اس حد تک کیا گیا کہ امریکی فوج نے اپنے دستیاب ذخائر کا تقریباً مکمل حصہ خرچ کر دیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ان ہتھیاروں کی بڑی تعداد میں کھپت مستقبل میں کسی بڑے فوجی محاذ پر امریکی ردعمل کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ ان کی تیاری اور دوبارہ ذخیرہ کرنے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان میزائلوں کے بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے اس معاملے پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ کمپنی ATACMS، PrSM اور THAAD دفاعی نظام بھی تیار کرتی ہے۔ اسی طرح ریتھیون، جو ٹوماہاک میزائل اور پیٹریاٹ دفاعی نظام تیار کرتی ہے، نے بھی اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے چیف ترجمان شان پارنیل نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس ہر وقت صدر کی ہدایت پر کسی بھی مقام پر کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف محاذوں پر کامیاب فوجی آپریشنز کے باوجود امریکا کے پاس اپنے عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ عسکری وسائل موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکی فوجی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دفاعی ہتھیاروں، خصوصاً پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر کے بارے میں آگاہ کرتی رہی۔ پیٹریاٹ نظام بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اسے امریکی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے متعدد امریکی میڈیا اداروں نے خبر دی تھی کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے اندر ایک اور بڑے فوجی حملے کا منصوبہ اس لیے مؤخر کر دیا کیونکہ عسکری مشیروں نے انہیں ہتھیاروں کے کم ہوتے ذخائر سے متعلق خبردار کیا تھا۔ تاہم پینٹاگون نے اس حوالے سے کسی مخصوص منصوبے یا فیصلے کی تصدیق نہیں کی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگوں میں درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کی دستیابی کسی بھی ملک کی عسکری برتری برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، اس لیے امریکا کو اپنے اسلحہ ذخائر کی بحالی کے لیے پیداواری عمل میں تیزی لانا پڑ سکتی ہے۔
ایران جنگ کے بعد امریکی فوج کے جدید میزائل ذخائر میں نمایاں کمی
