ایران نے ان ممالک سے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے جن پر تہران نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان ممالک میں متحدہ عرب امارات،قطر،سعودی عرب، بحرین، اردن شامل ہیں۔یہ وہ ممالک ہیں جن پر تہران نے خود جنگ کے دوران حملہ کیا ہے۔ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے امیر سعید ایرانی نے کہا کہ ان ممالک نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور انہیں ایران کو ہونے والے تمام نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ ان کے بقول اس میں مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور دیگر نوعیت کے نقصانات بھی شامل ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو پہنچنے والے ہر نقصان کا ازالہ کیا جائے اور ذمہ دار ممالک اپنی بین الاقوامی خلاف ورزیوں کی قیمت ادا کریں۔
دوسری جانب جنگ کے دوران ایران خود بھی اپنے خلیجی ہمسایہ ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں کا مقصد امریکا اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس مطالبے سے خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ جن ممالک پر الزام لگایا گیا ہے وہ پہلے ہی سکیورٹی خدشات اور علاقائی تنازعات کے باعث حساس صورتحال سے دوچار ہیں۔
