وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ آیا ایران کے ساتھ نئی مذاکراتی نشست پر غور کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نائب صدر جے ڈی وینس اور مذاکراتی ٹیم نے امریکا کی “ریڈ لائنز” واضح کر دی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی خواہش میں اضافہ ہوگا کیونکہ صدر ٹرمپ کی “انتہائی مؤثر بحری ناکہ بندی” اب نافذ ہو چکی ہے۔ تاہم انہوں نے ممکنہ نئے مذاکرات کے سوال پر کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
یہ پیش رفت اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مذاکرات آئندہ چند روز میں اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔
ادھر صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ “دوسری جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے” اور “وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ واشنگٹن نے باضابطہ طور پر نئی بات چیت کی تصدیق نہیں کی، لیکن حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ آنے والے دنوں میں اسلام آباد ایک بار پھر اہم سفارتی مرکز بن سکتا ہے۔
