تہران: ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کے قتل کے جرم میں سزا پانے والے دو افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔
ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان کے مطابق سزائے موت پانے والوں کی شناخت عرفان اسفندیاری اور گل محمد محمدی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ادارے کے مطابق دونوں کی سزاؤں پر عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد عملدرآمد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں افراد کو جنوری میں وسطی ایرانی شہر اصفہان میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاج کے دوران چار پولیس اہلکاروں کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو رسیوں سے سڑک کے کنارے نصب سائن بورڈ کے ساتھ باندھا، ان پر پتھراؤ کیا، بعد ازاں ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں چار اہلکار ہلاک ہوگئے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ملکی قوانین اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد نافذ کی گئی ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوری میں ایران بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد مظاہرین کی تھی۔ ان تنظیموں نے مظاہروں کے دوران طاقت کے استعمال اور بعد ازاں ہونے والی گرفتاریوں اور سزاؤں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مقدمات میں شفاف عدالتی کارروائی اور انسانی حقوق کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ایران میں دو حکومت مخالف مظاہرین کو سزائے موت پر عملدرآمد
