مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران کئی اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں، جن میں فوجی کارروائیاں، سکیورٹی اقدامات اور سفارتی دباؤ شامل ہیں۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں پولیس نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے 45 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ افراد مبینہ طور پر حملوں یا سکیورٹی واقعات کے مقامات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے تھے اور بعض صورتوں میں غلط یا غیر مصدقہ معلومات بھی پھیلا رہے تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سرگرمیاں عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور سکیورٹی آپریشنز کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں ایسی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ حالیہ حملوں میں نہ تو کوئی راکٹ زمین پر گرا اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع ہے۔تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق شمالی اسرائیل کے علاقے میں ایک یہودی بستی کی عمارت میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے، جس کی مزید تفصیلات ابھی واضح نہیں ہو سکیں۔
ایک اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ کو نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن سمیٹنے کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران میں نہ تو حکومت کی تبدیلی کے آثار ہیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔اسرائیلی حلقے اس کارروائی کو بڑی حد تک اسٹریٹیجک کامیابی قرار دے رہے ہیں، تاہم واشنگٹن کو عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری آپریشن کے دو ہفتوں کے دوران امریکی فوج کو قابلِ ذکر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔رپورٹ کے مطابق 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے،10 شدید زخمی ہیں،مجموعی طور پر تقریباً 200 فوجی مختلف نوعیت کی چوٹوں کا شکار ہوئے،یہ اعداد و شمار امریکی فوج کے لیے اس آپریشن کے دوران اب تک کے سب سے بڑے نقصانات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
عرب ذرائع ابلاغ کی غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ساحلی شہر شارجہ کی بندرگاہ کے قریب ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی اطلاع ملی ہے۔تاہم اس واقعے کی سرکاری سطح پر ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایران کے اہم تیل کے مرکز Kharg Island پر امریکی بمباری دکھائی گئی ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی "مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین فضائی حملوں میں سے ایک” ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں واقع یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
