امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی کارروائی کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں سمیت متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک کمرشل جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔
سینٹکام کے مطابق 25 جون کو ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملہ کیا، جس کے بعد امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مراکز اور ساحلی ریڈار سائٹس پر فضائی حملے کیے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے امریکی افواج خطے میں موجود اور مکمل طور پر چوکس ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد کی نگرانی بھی جاری رکھی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیریک میں دھماکے کی اطلاع دی ہے، جہاں ایک گولہ گرنے کی خبر سامنے آئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے سے قبل ممکنہ امریکی ردعمل سے متعلق سوال پر صحافیوں سے کہا تھا کہ "آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا۔” بعد ازاں انہوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز عبور کرنے والے بحری جہازوں پر چار ڈرونز سے حملہ کیا، جن میں سے ایک ڈرون ایک بڑے کارگو جہاز سے ٹکرایا جبکہ تین ڈرون امریکی دفاعی نظام نے مار گرائے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فضائی کارروائی کے بعد اپنے ردعمل میں کہا کہ "تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو ایم او یو پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق کوئی اختلاف ہے تو وہ براہِ راست رابطہ کر سکتا ہے۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ بحری اور فضائی دستوں نے جزیرہ سرک پر کیے گئے امریکی حملے کو ناکام بنا دیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اس جارحیت کو ہرگز بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا اور اس کا ردعمل اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر تیز اور فیصلہ کن ہوگا۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نئی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز میں سلامتی کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔
