ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ اور فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحمیم موسوی شہید گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، ان کے سیکیورٹی مشیر علی شامخانی اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سربراہ محمد پاکپور بھی نشانہ بن گئے،مسلح افواج کے مزید اعلیٰ کمانڈرز بھی ان حملوں میں شہید ہو گئے ہیں اور ان کے نام بعد میں جاری کیے جائیں گے ان اموات کے بعد ایران میں سوگ اور کشیدگی کی فضا پائی جا رہی ہے جبکہ خطے کی صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ 24 صوبوں میں ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں میں کم از کم 201 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ایرانی ہلال احمر نے جانی نقصان کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز سےجاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے 24 صوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں دو سو ایک شہری جان سے جا چکے ہیں جب کہ 700 سے زائد زخمی ہیں۔
تل ابیب میں ایرانی حملہ، 40 عمارتیں تباہ، 200 سے زائد افراد بے گھر
گزشتہ روز امریکا ور اسرائیل کی جانب سے کی گئی ابتدائی بمباری میں میناب شہر میں اسکول میں 86 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، جن میں بڑی تعداد طالبات کی تھی،ایران کے جوابی حملوں نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک بشمول قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اردن، سعودی عرب اور عراق میں اسرائیل اور امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔
شہادت کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے خصوصی پیغام جاری
