Baaghi TV

ایران نے امریکا سے براہ راست سفارت کاری معطل کردی

usa

‎وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد امریکا کے ساتھ براہ راست سفارتی رابطے معطل کر دیے ہیں، جس سے خطے میں جاری امن مذاکرات کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
‎ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کے سخت مؤقف کے جواب میں کیا گیا ہے تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ ایران دباؤ کے تحت کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اس اقدام کے ذریعے اپنی ناپسندیدگی اور مزاحمت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت نے پہلے سے جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈلائن قریب آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ براہ راست رابطوں کی معطلی سے مذاکراتی عمل متاثر ہوگا اور کسی ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کے امکانات کمزور پڑ سکتے ہیں۔
‎ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک امریکا اپنے مؤقف میں نرمی نہیں دکھاتا اور دباؤ کی پالیسی ترک نہیں کرتا، اس وقت تک براہ راست مذاکرات بحال ہونے کا امکان کم ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے کیونکہ براہ راست سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ اگر مذاکرات کا عمل بحال نہ ہوا تو خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔
‎دوسری جانب عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

More posts