امریکا اوراسرائیل کے ایران پر شدید حملے جاری ،تعلیمی اداروں، مساجد اوررہائشی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں شدید فضائی حملے کیے گئے حملوں میں معروف ادارے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، تہران یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں عمارتوں، مسجد اور قریبی گیس اسٹیشن کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ چوتھی بڑی یونیورسٹی ہے جسے نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک درجنوں مساجد، اسکولوں اور تعلیمی اداروں پر حملے رپورٹ ہو چکے ہیں حالیہ حملوں میں 6 بچے شہید ہوئے، جبکہ مختلف شہروں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے مجموعی طور پر ایران پر حملوں میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دارالحکومت کے مشرقی علاقے میں بمباری میں 3 رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ 50 سے زائد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تہران کے علاوہ بُشہیر، خرج، شیراز اور اصفہان میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جہا ں انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، بندر لینگے میں 6 افراد، قم میں 5 افراد جبکہ بہارستان میں کم از کم 13 افراد شہید ہوئے، جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل مجید خادمی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ میجر جنرل مجید خادمی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے ہیں ، میجر جنرل مجید خادمی گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے ایران کے انٹیلیجنس اور سکیورٹی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور انہیں ملک کی سکیورٹی اسٹرکچر کی ایک کلیدی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔
امریکا و اسرائیل کے حملے، ایران کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی شہید
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ مجید خادمی کی خدمات ایران کی داخلی سلامتی اور انٹیلیجنس آپریشنز کے حوالے سے نہایت اہم تھیں، اور ان کی موت ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، مرحوم کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے حوالے سے تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
پاکستان کی معاشی کامیابیوں اور "کرپٹو ڈپلومیسی” کے دشمن بھی معترف
