آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں نے ایک امریکی پرچم والے تجارتی جہاز کو روک لیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز بغیر اجازت ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوا تھا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب جہاز ایرانی حدود میں داخل ہوا تو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے وارننگ جاری کی گئی، جس کے بعد امریکی پرچم والا جہاز علاقے سے واپس نکل گیا۔ ایرانی موقف کے مطابق یہ اقدام ملکی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روکا اور اس کے عملے کو ہراساں کیا۔ سینٹ کام کے ترجمان کے مطابق ایرانی کشتیاں اور ایک ایرانی ڈرون جہاز کے قریب پہنچے اور اسے قبضے میں لینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
بحیرہ عرب میں تعینات امریکی ائیرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جانب ایک ایرانی ڈرون بڑھنے لگا۔ اس خطرے کے پیشِ نظر یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود امریکی ایف 35 سی لڑاکا طیارے نے دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی ’شاہد-139‘ ڈرون کو مار گرایا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ایف 35 طیارے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ائیرکرافٹ کیریئر کی طرف آنے والے ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی بحری جہاز اور اس پر موجود عملے کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے میں کسی بھی امریکی فوجی یا فوجی ساز و سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی فوج کے مطابق خطے میں امریکی افواج دفاعی پوزیشن میں ہیں اور کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
