اسلام آباد میں ممکنہ پاک، ایران اور امریکا سفارتی رابطوں کے دوران ایران نے اپنی تجاویز اور اہم شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف سے ایرانی وفد نے ملاقات کی ہے۔ملاقات کے دوران ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کی جبکہ ان کے ہمراہ ایران کے وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شرکت کو سراہا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر کے مطابق تہران نے اپنے مؤقف سے پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف کو آگاہ کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی وفد، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، اور ایرانی وفد، جس کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، نے الگ الگ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں وفود کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تاہم تاحال اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پس پردہ رابطے جاری ہیں اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی سرخ لکیروں میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور خطے بھر میں جنگ بندی شامل ہیں۔ ان نکات کو ایران کی مذاکراتی حکمت عملی کا بنیادی حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ٹرائیگر پر انگلی رکھ کر مذاکرات کریں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اعتماد کے فقدان سے پوری طرح آگاہ ہے، اسی لیے ایرانی سفارتی ٹیم انتہائی احتیاط کے ساتھ اس عمل میں داخل ہو رہی ہے۔
