Baaghi TV

جوڑواں بہن بھائی (اسلام آباد اور راولپنڈی)،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

اسلام آباد اور راولپنڈی محض جڑواں شہر نہیں ہیں، بلکہ قدرت کے بنائے ہوئے وہ تن جڑے بہن بھائی ہیں جن کا ناطہ ایک مگر نصیب الگ الگ لکھ دیا گیا۔ اسلام آباد وہ نواب زادہ، اجلا نکھرا اور متمول بھائی ہے جس کے بال ہمیشہ سلیقے سے سنوارے ہوئے ہیں اور جس کے دامن سے مہنگے پرفیوم کی خوشبو اٹھتی ہے، جبکہ راولپنڈی وہ سیدھی سادی، پسینے میں شرابور غریب بہن ہے جو چولہے کے آگے بیٹھی ساری عمر اسی بھائی کے ناز نخرے اٹھاتی رہتی ہے۔ غریب بہن لاکھ چاہے کہ بھائی کے کندھے سے کندھا ملا کر چلے، مگر اسلام آباد کی بے نیازیاں کم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ اہلِّ اسلام آباد راولپنڈی والوں کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے امیر گھرانے کے مغرور بچے گاؤں سے آئی ہوئی کسی غریب پھپھو کے پنڈی مارکہ بچوں کو گھورتے ہیں کہ "ہائے اللہ! یہ جانگلی کہاں سے آن پہنچے؟”

دونوں کی سرحدوں پر بسنے والے بے چارے تو شناخت کے ایسے دلکش بحران کا شکار ہیں کہ دل سی ڈی اے کے لیے دھڑکتا ہے اور نکاح نامے پر مجبوری میں آر ڈی اے کی مہر لگی ہوتی ہے۔ ادھر کوئی گلی محلے کا پلاٹ بیچنا ہو تو اشتہار میں جلی حروف سے لکھ دیا جاتا ہے "اسلام آباد کے عین سنگم پر”، تاکہ خریدار کو لگے کہ وہ پیرس کا ٹکٹ خرید رہا ہے، چاہے گلی کے نکڑ پر پنڈی کا کھلا گٹر ہی اس کا استقبال کیوں نہ کر رہا ہو! پنڈی کا باسی دوسرے شہر جا کر دھیمے سے اپنا تعارف ‘اسلام آباد’ کہہ کر کروانے کی معصوم حسرت پالتا ہے، مگر شناختی کارڈ پر تھانہ وارث خان یا گنج منڈی کا پتہ کھلتے ہی یہ بھرم ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔

انتظامی عجوبہ دیکھیے کہ دونوں کے سر پر ایک ہی سورج چمکتا ہے اور ایک ہی بادل برستا ہے، مگر موسمی احکامات کا تماشا ہی نرالا ہے۔ اسلام آباد کے دفتر میں افسر کافی کا گھونٹ بھر کر فرماتے ہیں کہ "ابھی گرمی کا احساس نہیں ہوا”، مگر سڑک کا ایک موڑ مڑتے ہی پنڈی کی حدود میں گرمی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہوتا ہے۔ سردیوں میں دونوں کے دانت یکساں بجتے ہیں، لیکن پنڈی کی مائیں چھٹی منا کر صبح کے وقت گیس کے ننھے شعلے کا ماتم کرتی ہیں اور بچوں کو زبردستی اسلام آباد کے سکولوں میں دھکیل آتی ہیں کہ "جا بیٹا، بھائی کے شہر میں تعلیم کا سیزن چل رہا ہے!” ادھر جب پنڈی کے سکول کھلتے ہیں تو اسلام آباد کے برگر بچے گھروں میں لحاف اوڑھے پاپ کارن اڑاتے نظر آتے ہیں۔

دن چڑھے راولپنڈی کے ہزاروں بابو، کلرک اور محنت کش سرخ میٹرو کے ڈبوں میں جھولتے ہوئے اسلام آباد کی رونقیں بحال کرنے پہنچتے ہیں۔ بھائی کے ایوانوں اور سڑکوں کو چمکانے کے لیے بہن کا سارا دن پسینہ بہتا ہے، اور شام ہوتے ہی اسلام آباد ان سب کو واپس پنڈی کی طرف دھکیل کر خود کو پرسکون اور اشرافیہ بنا لیتا ہے۔ اسلام آباد نو بجتے ہی بتی بجھا کر کمبل اوڑھ لیتا ہے، جبکہ راولپنڈی کے کرتار پور اور باڑہ بازار کی رونقیں آدھی رات کو انگڑائی لے کر جاگتی ہیں۔ بھائی رات کو ابلی ہوئی سبزی اور سلاد چبا کر واک کرتا ہے، اور غریب بہن آدھی رات کو تلی ہوئی چانپیں، نہاری اور فالودہ اڑا کر زندگی کے مزے لوٹتی ہے۔

محبت کا یہ تضاد بھی کمال ہے؛ پولن اور الرجی مارگلہ کے سرسبز ماتھے سے اڑتی ہے اور چھینکیں راولپنڈی کی پرانی بستیوں کے مقدر میں آتی ہیں۔ جب بادل برستے ہیں تو اسلام آباد کی کافی شاپس میں رومانیت کا غلغلہ مچتا ہے، مگر وہی بارش پنڈی کی تنگ گلیوں میں گھس کر گٹروں کے ابلنے اور نالہ لئی کے سائرن بجاتی ہے۔ بھائی کے لیے بارش کافی کا گھونٹ ہے تو بہن کے لیے چھت ٹپکنے اور پانی نکالنے کا امتحان! کسی وی آئی پی پروٹوکول پر اسلام آباد سنسان ہو کر ناکے لگا لے تو ٹریفک کا سارا عذاب مری روڈ اور فیض آباد کے گلے آ پڑتا ہے۔

اسلام آباد فائیو اسٹار مالز میں اپنی امارت سجاتا ہے مگر اس کی بیگمات بھی پردوں، لیسوں اور جہیز کے سودے سلف کے لیے راجہ بازار اور موتی بازار کے دھکے کھانے پنڈی ہی آتی ہیں۔ منہ دھلے، اجلے نکھرے اسلام آباد کو تکتے تکتے جب راولپنڈی کی بارہ مہینے بہتی ناک یعنی ‘نالہ لئی’ نظر آتی ہے تو لوگ بے ساختہ مارگلہ کی پہاڑیوں کی طرف رخ موڑ لیتے ہیں۔ مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے؛ اسلام آباد جتنا مرضی ناک بھوں چڑھا لے، ذائقے دار کھانوں کے چٹخارے لینے، سستی شاپنگ کرنے اور اپنے بنگلوں کے پردے سلوانے کے لیے اسے اندھیرا ہوتے ہی اسی غریب بہن کے در پر حاضری دینی پڑتی ہے!

More posts