Baaghi TV

"اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی”،تحریر:اعجازالحق عثمانی

چھ ستمبر صرف ایک دن یا تاریخ نہیں، بلکہ ایک طمانچہ ہے، اس مغرور فوج کے رخسار پر جو خود کو ناقابل تسخیر گردانتی تھی۔ 1965 میں بھارتی جرنیل اپنی میزوں پر بیٹھے، نقشوں پر پنسل گھما رہے تھے، فتح کے سہانے خواب بن رہے تھے۔ ایسے بچگانہ خواب جو شاید کسی نوآموز طالب علم کو امتحان کی شب بھی نہ آتے ہوں۔

منصوبہ نہایت سادہ اور بزدلانہ تھا کہ رات کی تاریکی میں گھسو، صبح تک لاہور فتح کر لو، اور شام ڈھلتے ہی جم خانہ کلب میں فتح کا جشن مناؤ۔ مگر یہ بھول گئے تھے کہ لاہور کوئی سنسان بیابان نہیں، بلکہ زندہ دلوں کا شہر ہے، اور زندہ دل مہمانوں کی تعظیم کرتے ہیں، نہ کہ بے ایمانوں کی۔

نہ اعلان جنگ ہوا نہ کوئی تنبیہ دی گئی۔ بس یوں چپکے سے جیسے کوئی نقب زن رات کی تاریکی میں دیوار پھلانگتا ہے۔ ایسے ہی بھارتی فوج نے بین الاقوامی سرحد عبور کر لی۔ چھ سو کے قریب ٹینک، ایک لاکھ سے زائد فوجی اور دل میں صرف ایک ہی ادھوری خواہش پروان چڑھ رہی تھی کہ صبح تک قبضہ مکمل ہمارا ہو۔مگر تقدیر کے کچھ اور ہی فیصلے تھے۔ جس سرزمین پر یہ لشکر اترا وہ سرزمین بانجھ نہ تھی اور نہ ہے۔ اس کی مٹی میں غیرت اور حب الوطنی کے بیج پہلے سے بوئے جا چکے تھے اور غیرت ایسی فصل بن کر اسی رات اُگ آئی کہ جن بھارتیوں نے حساب لگا رکھا تھا کہ 72 گھنٹوں کے اندر قابض ہوجائیں گے، ان کیلئے 72 منٹ مشکل بنا دیے گئے۔

نقب زن ڈیڑھ لاکھ رات کو باڈر پار کرکے آئے تھے اور ادھر صرف ڈیڑھ سو جوان تھے۔ حضرت اقبال شاید اسی رات کےلیے کہہ گئے تھے کہ

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیرِ الٰہی

سیالکوٹ کے مضافات میں ایک نہایت گمنام سا گاؤں ہے۔ جس کا نام چونڈہ ہے۔ اسی گاؤں نے وہ منظر دیکھا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد شاید کسی اور خطے نے نہ دیکھ رکھا ہو۔ سینکڑوں ٹینک ایک ہی میدان میں، ایک ہی وقت میں، ایک دوسرے سے نبردآزما تھے۔ بھارتی منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ یہاں سے راستہ بالکل ہموار ہو جائے گا۔مگر پاکستانی جوانوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اس سے آگے اور نہیں۔۔۔۔۔۔۔کچھ جوانوں نے اپنے جسموں پر بارود باندھا، دشمن کے ٹینکوں کے عین نیچے لیٹ گئے۔ اور اپنی جان کی قربانی سے ان لوہے کے دیووں کو خاک میں ملا دیا۔بحری میدان میں بھی پاکستان کے پاس وسائل محدود تھے،مگر ایک آبدوز جس کا نام غازی تھا۔ اس نے پوری بھارتیا بحریہ کو خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اس ایک آبدوز کی موجودگی نے بھارتی بیڑے کو بندرگاہ کے اندر ہی محصور رکھا۔اور دشمن کا بحری بیڑا باہر نکلنے کی جسارت نہ کر سکا۔

اور اسی طرح پاک فضائیہ کے پاس طیاروں کی تعداد تو کم تھی۔مگر مہارت اور جرات میں کوئی کمی نہ تھی۔ ایک نوجوان اسکواڈرن لیڈر نے چند سیکنڈوں کے اندر دشمن کے متعدد طیارے فضا میں ہی خاکستر کر دیے۔ ایم ایم عالم کی کامیابیاں تاریخ بن گئیں۔۔یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جو آج تک دنیا کی فضائی جنگی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔دیگر پائلٹ بھی دشمن کے فضائی اڈوں پر ایسے ایسے وار کر رہے تھے کہ زمین پر کھڑے جہاز اڑان بھرنے سے پہلے ہی جل کر راکھ ہوتے جارہے تھے۔ افسوس کہ کچھ پائلٹ اس معرکے میں واپس نہ آ سکے۔مگر جانے سے پہلے وہ اپنا فرض مکمل کر گئے۔

ایک اور منظر دیکھیے،لاہور کے قریب نہر کے کنارے ایک نوجوان میجر اپنے مٹھی بھر جوانوں کے ساتھ دشمن کی پوری بریگیڈ کے سامنے شیروں کی طرح کھڑاتھا۔ زخمی ہونے کے باوجود اس نے اپنا مورچہ نہ چھوڑا اور ڈٹا رہا حتیٰ کہ ایک گولہ اسے شدید زخمی کر گیا اور وہ جام شہادت نوش کر گیا۔ مگر اس کے باوجود مورچے سے دشمن ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکا۔

یہ جنگ محض فوج کی جنگ نہ تھی۔بلکہ ہر اک پاکستانی کی جنگ تھی۔شاعروں نے قلم اٹھایا اور ایسے اشعار تخلیق کیے جو آج بھی سنیں تو رگوں میں بجلی سی دوڑ جائے۔ گلوکاروں نے آواز بلند کی اور ملی نغمے ایسے مقبول ہوئے کہ ریڈیو پر بجتے ہی در و دیوار گونج اٹھے۔ کسانوں نے اپنی فصل کا حصہ فوج کے لیے وقف کیا۔طالب علموں نے رضاکارانہ خدمات پیش کیں۔ خواتین نے زخمیوں کی مرہم پٹی کی اور بعض بزرگ شہریوں نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے خندقیں کھودیں۔ذرا تصور کریں 80 برس کا بزرگ کدال اٹھائے خندق کھود رہا ہے، خدائے لم یزل کا عرش بھی داد دیے بنا نہ رہا ہوگا۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فتح کی داستان عام طور پر فاتح ہی بیان کرتا ہے، مگر یہاں خود شکست خوردہ فریق نے اپنی زبان سے اعتراف کیا۔ بھارتی جرنیلوں نے برسوں بعد اپنی کتابوں میں لکھا کہ پاکستانی فوج کی کارکردگی بے مثال تھی، اور یہ کہ وہ مہینوں پہلے کی تیاری کے باوجود ناکام رہے۔جو فوج مہینوں کی منصوبہ بندی کر کے آئی، وہ چند ہی گھنٹوں میں بدحواس ہو گئی، جبکہ جسے اچانک للکارا گیا، اس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔بین الاقوامی جریدوں نے بھی اس دور میں یہ رپورٹ کیا کہ بھارتی جنگی طیارے آسمان میں دکھائی نہیں دیتے، صرف پاکستانی شاہین اڑان بھرتے پھرتے ہیں، مگر انہیں شکار میسر نہیں آتا۔

یہ جنگ سترہ دن تک جاری رہی، ہر دن نئے امتحان اور ہر رات نئی آزمائش لے کر آتا۔ بائیس ستمبر کو عالمی برادری کو ہوش آیا تو سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس بلایا اور جنگ بندی کی قرارداد پیش کی۔ تئیس ستمبر کو جنگ بندی عمل میں آئی۔ اور چوبیس ستمبر کو پورے ملک میں یوم تشکر منایا گیا۔ یوم تشکر محض ایک رسمی تقریب نہ تھی، بلکہ اس بات کا کھلا اعلان تھا کہ ایک چھوٹی مگر پرعزم اور ایمانی قوت سے مالا مال قوم نے ایک بڑے دشمن کو اسی کے اپنے شروع کیے گیے کھیل میں شکست فاش دے دی۔

بھارت کو یہ امید تھی کہ عالمی برادری اسے مظلوم قرار دے گی۔مگر پاکستانی سفارت کاروں نے دنیا بھر کے فورمز پر حقیقت حال بیان کی، حملہ آور کون تھا، اور دفاع کس نے کیا۔ آزاد ذرائع ابلاغ نے بھی حقیقت کو چھپنے نہ دیا اور نتیجتاً بھارت کو وہ سفارتی حمایت بھی میسر نہ آئی جس کا وہ خواب دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران نام نہاد دوست ممالک نے اپنی عسکری امداد روک دی۔ یہ ایک تلخ مگر مفید سبق تھا کہ بیرونی سہارے پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے، اپنی طاقت اپنے ہاتھوں سے تعمیر کرنی چاہیے۔ خدا کرے کہ میری ارض پاک کے بیٹے یوں ہی ہمیشہ اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کرتے رہیں۔ یہ وطن تا قیامت سلامت رہے۔

More posts