مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ نااہل حکمران بجلی بلوں پر ٹیکس لگا کر آئی پی پیز کی تجوریاں بھرنے کے ساتھ اپنی عیاشی کا سامان پیدا کر رہے ہیں، 11 ماہ میں آئی پی پیز کو 29 کھرب 35 ارب روپے کی ادائیگیاں قومی معیشت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے،آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم اور عوام کو سستی بجلی فراہم کی جائے.
ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ حکمران عوام کو قربانی کا بکرا بنا کر آئی پی پیز کے ساتھ ایسے معاہدوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جو قومی معیشت کے لیے ناسور بن چکے ہیں،ایک طرف غریب عوام کے لیے بجلی کے بل ناقابلِ برداشت بنائے جا رہے ہیں، ہر چیز پر ٹیکس اور ٹیکس پر مزید ٹیکس لگایا جا رہا ہے، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک میں بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، آئی پی پیز کو کھربوں روپے کی ادائیگیاں جاری ہیں، آخر کب تک پاکستانی عوام آئی پی پیز کے معاہدوں اور حکمرانوں کی ناکام توانائی پالیسیوں کی قیمت ادا کرتے رہیں گے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ بجلی مہنگی کرکے صنعت، کاروبار اور زراعت کو تباہ کیا جا رہا ہے، ٹیکسوں کا شکنجہ سخت کرکے عوام اور تاجر طبقے کو نچوڑا جا رہا ہے، لیکن آئی پی پیز سے جان چھڑانے کے لیے حکومت کے پاس کوئی مؤثر اور سنجیدہ حکمتِ عملی نظر نہیں آتی،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان معاہدوں اور ادائیگیوں کا شفاف فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور قوم کو بتایا جائے کہ کھربوں روپے آخر کن شرائط کے تحت اور کن کمپنیوں کو ادا کیے گئے، آئی پی پیز کے معاہدوں پر فوری نظرثانی کی جائے، غیرضروری اور ناقابلِ برداشت کیپسٹی پیمنٹس کا خاتمہ کیا جائے، تمام معاہدوں اور ادائیگیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کرکے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔
