Baaghi TV

جب جسم زندہ ہو اور انسان مر چکا ہو،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

انسان کی موت صرف دل کی دھڑکن بند ہونے کا نام نہیں۔ جسم کا رک جانا یقیناً موت ہے، مگر انسان کی ایک اور موت بھی ہوتی ہے، جو اس کے جسم سے کہیں پہلے واقع ہو جاتی ہے۔ یہ موت اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان سوچنا چھوڑ دیتا ہے، سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے، اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش ترک کر دیتا ہے اور اپنی ذہنی زندگی کو چند معمولات تک محدود کر لیتا ہے۔

زندہ رہنے اور زندگی گزارنے میں بہت فرق ہے۔

دنیا میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو سانس لے رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، کھا پی رہے ہیں، گھر جا رہے ہیں، لوگوں سے مل رہے ہیں، مگر حقیقت میں ان کی زندگی صرف ایک معمول بن چکی ہے۔ وہ سوچتے نہیں، صرف ردِعمل دیتے ہیں۔ سوال نہیں کرتے، صرف مان لیتے ہیں۔ کچھ نیا جاننے کی خواہش نہیں رکھتے، صرف وہی دہراتے ہیں جو برسوں سے سنتے آئے ہیں۔

ایسے میں جسم تو زندہ رہتا ہے، مگر انسان کے اندر موجود انسان آہستہ آہستہ مرنے لگتا ہے۔

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اس دنیا میں آتے ہیں، اپنی زندگی گزارتے ہیں اور ایک دن خاموشی سے چلے جاتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد دنیا کچھ دیر انہیں یاد کرتی ہے، پھر وقت گزرنے کے ساتھ ان کا ذکر بھی کم ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی لوگوں کے درمیان موجود رہتے ہیں۔ ان کے خیالات، ان کی باتیں، ان کے کام اور ان کی سوچ آنے والی نسلوں تک پہنچتی ہے۔

فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے زندگی صرف گزاری ہوتی ہے، جبکہ دوسرے نے زندگی کو کوئی معنی دیا ہوتا ہے۔

انسان اپنے جسم سے نہیں، اپنی سوچ سے زیادہ دیر زندہ رہتا ہے۔

ہم آج بھی ان لوگوں کو یاد کرتے ہیں جنہیں دنیا چھوڑے ہوئے کئی صدیاں گزر چکی ہیں۔ ان کے جسم مٹی کا حصہ بن چکے، مگر ان کے خیالات آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی کتابیں پڑھی جاتی ہیں، ان کے نظریات پر بحث ہوتی ہے، ان کے سوال آج بھی انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت انسان کے جسم کو ختم کر سکتی ہے، اس کی سوچ کو نہیں، اگر وہ سوچ دوسروں کے لیے کوئی معنی رکھتی ہو۔

اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کتنے سال زندہ رہا، اصل سوال یہ ہے کہ اس نے ان سالوں میں سوچا کیا؟

ہم اپنے جسم کی صحت کے لیے بے حد فکر مند رہتے ہیں۔ غذا کا خیال رکھتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، دوائیں لیتے ہیں، آرام کرتے ہیں، مگر اپنے دماغ کے بارے میں شاید ہی کبھی سوچتے ہیں۔ ہم اپنے ذہن کو وہی معلومات دیتے رہتے ہیں جو آسان ہوں، وہی باتیں سنتے ہیں جو ہماری رائے سے ملتی ہوں اور اکثر ایسی ہر بات سے دور بھاگتے ہیں جو ہمارے خیالات کو چیلنج کرے۔

حالانکہ دماغ بھی استعمال نہ ہونے سے کمزور ہوتا ہے۔

سوچنے کے لیے صرف ذہانت کافی نہیں، ہمت بھی چاہیے۔ سوال اٹھانے کے لیے صرف علم کافی نہیں، اپنے یقین پر نظرِ ثانی کرنے کا حوصلہ بھی چاہیے۔ انسان کی اصل ذہنی ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ ممکن ہے جو کچھ وہ آج درست سمجھتا ہے، کل اسے غلط بھی ثابت کیا جا سکے۔

دل اور دماغ کے درمیان بھی یہی فرق ہے۔ دل احساس دیتا ہے اور دماغ تجزیہ۔ دل چاہتا ہے اور دماغ سوچتا ہے۔ دل انسان کو تعلق دیتا ہے اور دماغ اسے سمت دیتا ہے۔ شاید زندگی کی خوبصورتی اسی توازن میں ہے کہ انسان نہ صرف محسوس کرے بلکہ سوچے بھی۔

صرف دل سے کیے گئے فیصلے انسان کو جذبات کا قیدی بنا سکتے ہیں اور صرف دماغ سے کیے گئے فیصلے اسے بے حس کر سکتے ہیں۔ انسان کو انسان رکھنے کے لیے دل کی نرمی اور دماغ کی بصیرت دونوں ضروری ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سوچنے کو مشکل اور صرف مان لینے کو آسان بنا دیا ہے۔

ہمیں جواب جلدی چاہیے، سوال نہیں۔ ہمیں رائے چاہیے، تحقیق نہیں۔ ہمیں فیصلہ چاہیے، دلیل نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج معلومات کی کمی نہیں، مگر سمجھ کی کمی ضرور ہے۔

انسان کی اصل زندگی اس دن تک زندہ رہتی ہے جب تک اس کے اندر سوال زندہ رہتے ہیں۔ جس دن انسان نے یہ سمجھ لیا کہ اسے سب کچھ معلوم ہے، اسی دن اس کی ذہنی ترقی رک جاتی ہے۔

اس لیے اپنے جسم کو زندہ رکھنے کے ساتھ اپنے دماغ کو بھی زندہ رکھیے۔ نئی کتاب پڑھیے، مختلف خیالات سنیے، اپنے یقین پر سوال کیجیے، دوسروں کی بات سمجھنے کی کوشش کیجیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سوچنا مت چھوڑیے۔

کیونکہ موت ایک دن جسم کو ضرور ختم کرے گی، مگر سوچنے والا انسان اپنی زندگی کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ رہ سکتا ہے۔

آخرکار انسان کی پہچان یہ نہیں کہ اس کا دل کتنی دیر دھڑکتا رہا، بلکہ یہ ہے کہ اس کے دل نے کیا محسوس کیا، اس کے دماغ نے کیا سوچا اور اس کی سوچ نے دنیا میں کیا چھوڑا؟

More posts