گاندھی نگر کے علاقے مانسا کی مجسٹریٹ عدالت نے فوجداری ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں صحافی روی نائر کو مجرم قرار دیتے ہوئے ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
یہ مقدمہ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ (اے ای ایل) کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جو اڈانی گروپ کی فلیگ شپ کمپنی ہے۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ روی نائر نے ٹوئٹر (ایکس) پر متعدد ٹوئٹس شائع کیں اور پھیلائیں جن میں جھوٹے اور ہتک آمیز بیانات شامل تھے، جن کا مقصد اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ اور اڈانی گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ نے عدالت کو بتایا کہ متنازع ٹوئٹس نہ تو منصفانہ تبصرے کے زمرے میں آتی ہیں اور نہ ہی انہیں جائز تنقید قرار دیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ ٹوئٹس عوام اور سرمایہ کاروں کی نظر میں کمپنی کی ساکھ اور اعتماد کو مجروح کرنے کے لیے دانستہ طور پر کی گئیں۔
مکمل عدالتی کارروائی اور ٹرائل کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ اپنا مؤقف ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ عدالت نے روی نائر کو فوجداری ہتکِ عزت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک سال قید کی سزا سنائی اور ساتھ ہی جرمانہ بھی عائد کر دیا۔
