کراچی: جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی پر ایک غیر معمولی اور حیران کن انتظامی حکم نامہ سامنے آیا ہے، جس میں ایک ایف آئی اے افسر کو امیگریشن ایریا میں سیوریج، بیت الخلاء کی صفائی اور چوہوں کی نگرانی کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن شہزاد اکبر کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری آرڈر کے تحت اسسٹنٹ سب انسپکٹر منور مہدی کو کراچی ائیرپورٹ پر بطور ایڈمن انچارج سیوریج تعینات کیا گیا ہے، جو ایک نئی اور غیر روایتی پوسٹ تصور کی جا رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آرڈر میں واضح کیا گیا ہے کہ نامزد افسر امیگریشن کے تمام بیت الخلاء اور سیوریج سسٹم کی صفائی ستھرائی کی نگرانی کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ افسر اس بات کا بھی پابند ہوگا کہ وہ ہر ایک گھنٹے بعد صفائی کی دستخط شدہ رپورٹ ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن کو پیش کرے۔ اس نوعیت کی ذمہ داریاں نہ تو ایف آئی اے کے قواعد و ضوابط کا حصہ ہیں اور نہ ہی کسی تفتیشی یا امیگریشن افسر کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں، جس پر ادارے کے اندر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مزید حیران کن طور پر آرڈر میں یہ بھی درج ہے کہ مذکورہ افسر اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ امیگریشن ہال اور ڈپٹی ڈائریکٹر آفس میں موجود چوہے کس بیت الخلاء اور کن سیوریج لائنوں کے ذریعے آتے جاتے ہیں،افسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چوہوں کی نقل و حرکت، راستوں اور ممکنہ نقصانات پر بھی رپورٹ مرتب کرے، جسے افسران کی جانب سے غیر سنجیدہ اور تضحیک آمیز اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔اس غیر پیشہ ورانہ حکم نامے کے بعد ایف آئی اے کے افسران میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلے ہی آف لوڈنگ کے غیر واضح زبانی احکامات اور داخلی محکمانہ کارروائیوں کا سامنا کرنے والے افسران اس آرڈر کو اپنی مزید تذلیل کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔کئی افسران کا کہنا ہے کہ ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسر کو صفائی اور سیوریج کی نگرانی پر لگانا نہ صرف اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے بلکہ اس سے ادارے کا وقار بھی مجروح ہو رہا ہے۔
