کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مرکز بہادرآباد پر جھگڑے کے بعد پارٹی کے عہدیدار اور کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائیاں کرکے ایم کیو ایم کے عہدیداران اور کارکنان کو حراست میں لیا ہے،پولیس کی بھاری نفری بہادرآباد میں ایم کیو ایم کے آفس کے باہر موجود ہے، ایم کیو ایم بہادر آباد مرکز پر شبیر قائم خانی اور دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔
ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی شبیر قائم خانی نے کہا ہے کہ بہادرآباد آفس کو سیل نہیں کیا جا رہا،کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبیر قائم خانی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او نیو ٹاؤن یہاں آئے تھے اور کہا کہ آفس کو تالا لگانے کا آرڈر ہے،انہوں نے کہا کہ ہم نے پولیس سے لیٹر مانگا ہے، وہ ابھی تک نہیں دکھایا گیا۔
ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد میں جھگڑے اور فائرنگ کے معاملے پر نارتھ ناظم آباد میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے رحمان عرف بھولا کو حراست میں لے لیا، وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال بھی ایم کیو ایم مرکز بہادرآباد پہنچ گئے، صحافیوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ کل کے واقعہ پر کچھ نہیں کہنا چاہتا، کچھ بھی سیل نہیں ہورہا، سب کچھ ٹھیک کرلیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ رات متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستا ن کے مرکز بہادر آباد میں ایم کیو ایم کے دھڑوں کے مابین تصادم کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لینے کے بعد صورت حال پر قابو پایا تھا،نیو ٹاؤن تھانہ کی حدود میں واقع ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں ایم کیو ایم کے دو دھڑے آپس میں الجھ پڑے تھے، مرکز کے باہر بڑی تعداد میں جمع مشتعل کارکنان ایک دوسرے کو دھکے دیتے دکھائی دیے، اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے،ایس ایچ او تھانہ نیو ٹاؤن انسپکٹر گل حسن کا کہنا تھا کہ فوری طور پر نہ ہی واقعے کا کوئی مقدمہ درج ہوا ہے اور نہ ہی کسی کو حراست میں لیا گیا،دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑوں کے رہنمائوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے متعدد کارکنان و ذمہ داران زخمی ہوئے ہیں۔
