ہر سال 10 ستمبر کو دنیا بھر میں "خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن” منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد تقاریب کا انعقاد یا روایتی بیانات جاری کرنا نہیں، بلکہ اس تلخ حقیقت پر غور کرنا ہے کہ ہر سال دنیا میں لاکھوں افراد شدید ذہنی، جذباتی اور سماجی دباؤ کے باعث اپنی زندگی کا چراغ خود گل کر دیتے ہیں۔ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار سوسائیڈ پریونشن اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دیا گیا عالمی پیغام بالکل واضح ہے: بیانیے کو تبدیل کرنا اور عمل کے ذریعے امید پیدا کرنا۔ وقت آ گیا ہے کہ خودکشی کو محض ایک جرم یا کمزوری سمجھنے کے بجائے ایک سنگین نفسیاتی اور معاشرتی بحران کے طور پر دیکھا جائے۔
کسی بھی انسان کے لیے زندگی سب سے بڑی نعمت ہے، لیکن جب اندرونی اذیت برداشت کی تمام حدود پار کر جائے تو انسان کو موت ہی واحد پناہ گاہ نظر آنے لگتی ہے۔ خودکشی کا ارادہ رکھنے والا دراصل زندگی سے بیزار نہیں ہوتا، وہ صرف اس ناقابلِ برداشت درد کا خاتمہ چاہتا ہے جس میں وہ مسلسل مبتلا رہتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں خودکشی کے رجحان میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے سب سے زیادہ نوجوان طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، بے روزگاری، تعلیمی اداروں میں امتحانات کا غیر ضروری دباؤ، اور گھریلو توقعات کا غیر حقیقی بوجھ ذہنوں کو مفلوج کر رہا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ذہنی صحت سے جڑی ایک گہری معاشرتی جھجک قائم ہے۔ اگر کسی کو دل، جگر یا گردے کی تکلیف ہو تو پورا خاندان اس کے علاج کے لیے دوڑ پڑتا ہے، لیکن اگر کوئی ڈپریشن، شدید اضطراب یا ذہنی گھٹن کا شکار ہو تو اسے "بے صبرا”، "کمزور ایمان والا” یا "ناشکرا” کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ یہی خاموشی آہستہ آہستہ ایک اندھے کنویں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
کوئی بھی شخص اچانک ایک دن میں انتہائی قدم نہیں اٹھاتا۔ اس فیصلے سے قبل اس کے رویے اور باتوں میں واضح تنبیہی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اچانک سب سے کٹ جانا، مستقل خاموشی، روزمرہ دلچسپیوں کا ختم ہو جانا، نیند کا غائب ہونا، اور خود کو بیکار یا دوسروں پر بوجھ سمجھنے کی باتیں دراصل مدد کی خاموش پکار ہوتی ہیں۔ جب کوئی فرد یہ کہے کہ "میرے بغیر سب بہتر رہیں گے” یا "میں اب مزید نہیں جینا چاہتا”، تو اسے ہرگز مذاق یا توجہ حاصل کرنے کا بہانہ نہ سمجھیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ہماری بروقت مداخلت ایک قیمتی جان بچا سکتی ہے۔
اس المیے کی روک تھام کے لیے ہمیں اپنی خاندانی اور سماجی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ سب سے پہلا قدم ہمدردانہ سماعت ہے۔ ہمیں جج بن کر نصیحتیں کرنے کے بجائے صرف ایک مخلص ہمدرد بن کر سننا سیکھنا ہوگا، بغیر اس کے کہ ہم سامنے والے پر کوئی فتویٰ صادر کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ ایسا کھلا اور دوستانہ ماحول قائم کریں جہاں وہ اپنی ناکامی، خوف اور پریشانی بلا جھجھک بیان کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، نفسیاتی علاج اور کاؤنسلنگ کو معاشرے میں عام اور معمول کی بات بنانا ناگزیر ہے۔ جس طرح جسم کے علاج کے لیے معالج ضروری ہے، اسی طرح ذہن کے الجھاؤ کے لیے ماہر نفسیات سے رجوع کرنا عقل مندی کی علامت ہے۔ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں کاؤنسلنگ کی سہولیات، قومی سطح پر فعال ہیلپ لائنز اور میڈیا کا ذمہ دارانہ رویہ اس سفر میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
زندگی میں دکھ، ناکامی اور مایوسی کے طوفان آتے ہیں، لیکن یہ تمام حالات عارضی ہوتے ہیں۔ خودکشی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک مستقل اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ مایوسی کی تاریک ترین رات کے بعد بھی ایک نئی اور روشن صبح کا آغاز ممکن ہے۔ آئیے اس 10 ستمبر کو یہ عہد کریں کہ ہم اپنے اردگرد بسنے والوں کے لیے تنقید کے بجائے تسلی، اور بے رخی کے بجائے امید کا سہارا بنیں گے—کیونکہ آپ کی چند منٹ کی مخلصانہ گفتگو اور ایک محبت بھرا دلاسہ کسی ڈوبتے ہوئے دل کو جینے کی نئی امید عطا کر سکتا ہے۔
پاکستان میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح ایک خاموش اور سنگین المیہ بن چکی ہے، جس کا بڑا نشانہ نوجوان طبقہ بن رہا ہے۔ اس رجحان کی بنیادی وجوہات میں معاشی بدحالی، بے روزگاری، تعلیمی مسابقت کا غیر ضروری بوجھ، گھریلو تنازعات اور سوشل میڈیا سے جنم لینے والی تنہائی شامل ہیں۔
سب سے بڑی رکاوٹ ذہنی صحت کے حوالے سے معاشرتی رویہ ہے؛ جہاں ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کو بیماری سمجھنے کے بجائے محض "ایمان کی کمزوری” یا "بہانہ” قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی روایتی بے حسی متاثرہ افراد کو تنہائی اور مایوسی کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں وہ زندگی ختم کرنے کو واحد حل سمجھ بیٹھتے ہیں۔
اس بحران کے سدباب کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر فوری ذہنی رہنمائی کے مراکز قائم کیے جائیں، مفت ہیلپ لائنز کو فعال بنایا جائے، اور خاندان کی سطح پر کھل کر بات کرنے کی حوصلہ افزائی ہو تاکہ کوئی فرد خود کو تنہا نہ سمجھے۔
