کچھ محفلیں صرف محفلیں نہیں ہوتیں، وہ دلوں کی دنیا بدلنے کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ کچھ آوازیں محض آوازیں نہیں ہوتیں، وہ صدیوں کے فاصلے طے کرکے دلِ مومن کے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔ کچھ اشعار صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے، ان میں عقیدت کی حرارت، محبت کی روشنی اور عشقِ رسول ﷺ کی وہ خوشبو بسی ہوتی ہے جو انسان کے باطن کو منور کر دیتی ہے۔ نعتیہ محافل بھی ایسی ہی روحانی ساعتوں کا نام ہیں جہاں زبان پر درود و سلام ہوتا ہے، دل میں مدینہ منورہ کی تڑپ ہوتی ہے اور آنکھیں تصورِ گنبدِ خضرا ﷺ میں بھیگ جاتی ہیں۔
فیصل آباد کی سرزمین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے چراغ تسلسل کے ساتھ روشن ہیں۔ انجمن فقیرانِ مصطفیٰ ﷺ فیصل آباد کا ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ اسی روشن روایت کی ایک ایسی تابندہ کڑی ہے جو اب 279ویں منزل تک پہنچ چکی ہے۔ یہ محض ایک ادبی سرگرمی نہیں بلکہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے فروغ، نعتیہ ادب کی ترویج اور نئی نسل کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کے چراغ روشن کرنے کی ایک مسلسل تحریک ہے۔
31 اگست 2026ء، بروز پیر، 17 ربیع الاول 1448ھ کو اعوان نعت محل، اسلامی چوک، سول کوارٹرز، غلام محمد آباد فیصل آباد میں منعقد ہونے والا 279واں ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ اسی عظیم روایت کا ایک یادگار باب تھا۔ طرح مصرع تھا:
"راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ”
یہ مصرع ہی گویا پوری محفل کی روح بن گیا تھا۔ ہر طرف ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، نعت کے پھول، عقیدت کے جذبات اور مدینے کی یادوں کی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔
نعت کا شہر اور عشق کی بستی
فیصل آباد کو اگر صنعت و تجارت کا شہر کہا جاتا ہے تو یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ اس شہر کے دامن میں عشقِ رسول ﷺ کی ایک گہری اور روشن ادبی روایت بھی موجود ہے۔ یہاں کے شعرا نے نعتیہ ادب میں اپنا ایک نمایاں مقام بنایا اور نعت خوانوں، نعت گو شعرا اور اہلِ ذوق نے مل کر ایسی فضا قائم کی جس میں محبتِ رسول ﷺ نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔
انجمن فقیرانِ مصطفیٰ ﷺ کی ماہانہ طرحی نشستیں اسی تسلسل کی عملی تصویر ہیں۔ 279 مشاعرے مکمل کرنا کسی ایک شخص یا ایک تنظیم کی کامیابی نہیں؛ یہ دراصل عشق، اخلاص، استقامت اور خدمتِ نعت کا ایسا سفر ہے جس میں کئی نسلوں کے اہلِ قلم شریک رہے ہیں۔
اس محفل کی نقابت پروفیسر ریاض احمد قادری نے کی جبکہ انتظامات اللہ نواز منصور اعوان نے سنبھالے۔ صدرِ محفل سرگودھا سے تشریف لانے والے معروف نعت گو شاعر پروفیسر حافظ محبوب احمد تھے، جبکہ صدرالصدور کی مسند پر ستارۂ امتیاز پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید جلوہ افروز تھے۔ پروفیسر جاوید اسلم باجوہ، پروفیسر محمد طاہر صدیقی اور ڈاکٹر محمد انور انیق کی شرکت نے محفل کی علمی و ادبی اہمیت میں مزید اضافہ کیا۔
پروفیسر حافظ محبوب احمد کو اس موقع پر شہرِ نعت کا سب سے بڑا "فقیر مصطفیٰ نعت ایوارڈ 279” پیش کیا گیا۔ یہ اعزاز دراصل صرف ایک شخصیت کی پذیرائی نہیں بلکہ ان تمام اہلِ قلم اور اہلِ محبت کا اعتراف تھا جنہوں نے نعتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا مقصد اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مرکز بنایا۔
"اظہارِ نعت” — ایک کتاب نہیں، عشق کی دستاویز
اس مشاعرے کی ایک بڑی خصوصیت ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی شہرۂ آفاق تصنیف "گلزارِ نعت” یعنی مجموعۂ کلام "اظہارِ نعت” کی پروقار تقریبِ رونمائی تھی۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی آمد پر منتظمِ محفل اللہ نواز منصور اعوان نے جس محبت اور عقیدت سے ان کا استقبال کیا، وہ اس بات کا مظہر تھا کہ نعت گو شاعر کا استقبال دراصل عشقِ رسول ﷺ کے ایک سفیر کا استقبال ہوتا ہے۔ گلدستے پیش کیے گئے، پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور اہلِ علم و ادب نے محبت و احترام کے جذبات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر پروفیسر ریاض احمد قادری کا کلیدی خطاب خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ ان کے لہجے میں صرف ادبی تحسین نہیں بلکہ محبت اور عقیدت کی وہ گہرائی تھی جو کسی نعتیہ تخلیق کے حقیقی اثر کو محسوس کرنے والے دل ہی میں پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے نعتیہ مجموعے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ یہ اشعار محض فنی مشق کا نتیجہ نہیں بلکہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی داخلی کیفیت سے پھوٹے ہیں۔
یہی نعت کی اصل روح ہے۔ نعت میں الفاظ کی خوب صورتی ضرور ضروری ہے، لیکن صرف خوب صورت الفاظ نعت کو لازوال نہیں بناتے۔ جب لفظ کے پیچھے عشق ہو، جب شعر کے اندر ادب ہو، جب خیال کے مرکز میں ذاتِ اقدس ﷺ ہو تو پھر شعر دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر صدیقی اور پروفیسر ڈاکٹر جاوید اسلم باجوہ نے بھی کتاب کا علمی و ادبی جائزہ پیش کیا اور اسے اردو نعت کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔
جاوید اسلم باجوہ کا منفرد خراجِ تحسین
پروفیسر جاوید اسلم باجوہ کا خطاب اس حوالے سے بھی اہم تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے ادبی سفر کے مختلف پہلوؤں کو نہایت خوب صورتی سے اجاگر کیا۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ ایک ایسے شخص نے جس کا علمی، تحقیقی اور ادبی پس منظر مضبوط ہے، بالآخر نعتیہ شاعری کے میدان میں قدم رکھا۔
انہوں نے ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی علمی و تحقیقی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فیصل آباد کی علمی، ادبی اور سماجی شخصیات پر ان کے تعارفی مضامین اور گورنمنٹ کالج فیصل آباد کی تاریخ و اساتذہ کے حوالے سے ان کے تحقیقی کام کو قابلِ قدر قرار دیا۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ کسی شہر کی ادبی تاریخ صرف بڑے ناموں سے نہیں بنتی، بلکہ ان خاموش محققین سے بھی بنتی ہے جو شخصیات، اداروں، کتابوں اور تہذیبی روایات کو محفوظ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا یہ کام اسی اعتبار سے اہم ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے علمی و ادبی چہروں کو لفظوں میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔
پروفیسر جاوید اسلم باجوہ نے ان کے نعتیہ کلام میں عشقِ رسول ﷺ کی کیفیت، خوب صورت قوافی، دلکش اسلوب اور فنی نفاست کو نمایاں کرتے ہوئے یہ احساس دلایا کہ نعت گوئی محض شاعری کی ایک صنف نہیں بلکہ ایک روحانی ذمہ داری بھی ہے۔
تحقیق سے نعت تک — ڈاکٹر انور انیق کی گفتگو
ڈاکٹر محمد انور انیق نے ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے ادبی سفر کے ایک اور اہم پہلو کو سامنے رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اظہار کا نعت سے تعلق کوئی وقتی یا اچانک پیدا ہونے والی وابستگی نہیں بلکہ ایک طویل فکری اور تحقیقی سفر کا تسلسل ہے۔
غیر مسلم نعت گو شعرا کی نعتوں پر تحقیق کرکے "سارا عالم ہے منور آپ کے انوار سے” جیسی منفرد کاوش سامنے لانا اس بات کی علامت ہے کہ عشقِ رسول ﷺ نے ان کی علمی جستجو کو بھی متاثر کیا۔ بعد ازاں سیرتِ طیبہ ﷺ کے حوالے سے "فخرِ کائنات” کی اشاعت اور اب "اظہارِ نعت” کی صورت میں نعتیہ شاعری کا مجموعہ، ایک ہی فکری اور روحانی سفر کی مختلف منزلیں دکھائی دیتی ہیں۔
یہی کسی قلم کار کی اصل خوش بختی ہے کہ اس کا قلم جس قدر آگے بڑھے، اس کے اندر ادب، تحقیق اور عقیدت کی گہرائی بھی بڑھتی جائے۔
نعتیہ مشاعرہ — الفاظ سے آگے ایک کیفیت
اس محفل میں ملک کے مختلف علاقوں اور شہروں سے تعلق رکھنے والے شعرا نے حضوری اور آن لائن شرکت کی۔ ڈاکٹر جاوید اسلم باجوہ، مجیب الرحمن ساحل، میاں منیر احمد منیر، سرور قمر قادری، ناصر حسین راضی، عثمان منیر، منیر احمد خاور، ڈاکٹر محمد انور انیق، ڈاکٹر محمد طاہر صدیقی، پروفیسر ریاض احمد قادری، سید شاہد حسین، ذیشان حسینی، شفقت علی شفقت گل، عباس علی حیدر، ضمیر اطہر قادری، ریاض حسین فاروقی، تسکین ریاض، ندیم عسکری، نعیم صدیقی، اشفاق حیدری، سلیم شاہد، اشفاق ہمزالی، منصور نواز اعوان، ڈاکٹر اظہار احمد گلزار، حکیم محمد اکرم شاہد اور بلال سمیت متعدد شعرا نے شرکت کی۔
آن لائن شرکت کرنے والوں میں محمد قاسم رشید ہادی، بشیر احمد ندیم، فقیر حسین چشتی، ڈاکٹر مقصود احمد عاجز، زاہد سرفراز زاہد، مبشر حسین فیضی، تنویر سیٹھی، این ایس شانی سمندری، محمد ضیاء شاہد کمالیہ، حافظ علی رضا عارف، تبسم قادری، مبشر کامل ،سکندر عزیز خان اور راقم الحروف محمد شاہد نسیم شامل تھے, جو کسی وجہ سے آج اسلام آباد ہونے کی وجہ سے شامل نہ ہو سکے تھے۔
انہوں نے اسلام آباد سے اپنے پیغام میں کہا کہ
آج انجمنِ فقیرانِ مصطفےٰ ﷺ کا 279واں طرحی نعتیہ مشاعرہ منعقد ہو رہا ہے، جس کا خوب صورت طرحی مصرع ہے:
’’راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ‘‘
اس بابرکت محفلِ نعت کی صدارت جناب محبوب احمد صاحب، سرگودھا فرما رہے ہیں، جن کی خدمت میں حاضری اور ملاقات میرے لیے یقیناً ایک خوش گوار ادبی سعادت ہوتی۔
افسوس کہ ایک انتہائی ضروری کام کے باعث اس وقت اسلام آباد میں موجود ہوں اور میرے لیے اس عظیم نعتیہ محفل میں بنفسِ نفیس شریک ہونا ممکن نہ ہو سکا۔ تاہم فاصلے دلوں کو کہاں جدا کر سکتے ہیں؟
میرا دل آج بھی انجمنِ فقیرانِ مصطفےٰ ﷺ کے ساتھ دھڑک رہا ہے، میری دعائیں اس محفل کے ساتھ ہیں اور میری عقیدت حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں اس نعت کے ذریعے اپنی حاضری پیش کر رہی ہے۔
میری یہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ میری طرف سے اس بابرکت محفل میں حاضری، سلامِ عقیدت اور محبتِ مصطفےٰ ﷺ کا نذرانہ قبول فرمائیے۔
سرزمینِ سرگودھا میرے لیے محض ایک شہر نہیں؛ یہی وہ شہر ہے جہاں سے میں نے میٹرک کی تعلیم حاصل کی، جس کی مٹی سے میری یادیں اور جذبات وابستہ ہیں۔ آج اسی شہر کے ایک باوقار ادبی و نعتیہ اجتماع میں شریک نہ ہو سکنے کا ملال ضرور ہے، مگر روحانی طور پر میں خود کو اسی محفل میں موجود محسوس کر رہا ہوں۔
محترم صدرِ مشاعرہ جناب محبوب احمد صاحب، انجمنِ فقیرانِ مصطفےٰ ﷺ کے تمام منتظمین، شعرائے کرام اور تمام عاشقانِ رسول ﷺ کی خدمت میں محبت بھرا سلام۔
اللہ تعالیٰ اس محفلِ نعت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، تمام اہلِ محبت کی حاضری قبول فرمائے اور ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ رسول ﷺ اور نسبتِ رسول ﷺ کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
(محمد شاہد نسیم)
دل کے گلشن کو سجانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
بے سہاروں کو سہارا دینے دنیا میں حضور
غم کے ماروں کو ہنسانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
ظلمتوں میں نورِ حق کا راستہ دکھلانے کو
شمعِ ایماں پھر جلانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
بت کدوں میں پرچمِ توحید لہراتے ہوئے
کفر کا باطل مٹانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ
سوئے دل کو عشقِ خالق سے سجانے کے لیے
راہِ حق ہم کو دکھانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ
جو بھٹکتے تھے اندھیروں میں جہاں بھر میں کبھی
ان کو منزل تک پہنچانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
نفرتوں کی آگ کو الفت بنانے کے لیے
ٹوٹتے دل کو ملانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
عدل کا میزان دنیا کو دکھانے کے لیے
حق کا پرچم اٹھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
آدمیت کو عطا کرنے کو قدر و منزلت
سوئے انساں کو جگانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
جن کے دامن سے ملے ہر درد کو ہی اطمینان
زخمِ دل سارے مٹانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
ہر درد کا درمان ہے اب عشقِ مصطفیٰ ﷺ
شاہدؔ امت کو بچانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ
یہ منظر اس حقیقت کا غماز تھا کہ نعت کی خوشبو جغرافیائی حدود کی پابند نہیں۔ فیصل آباد میں منعقد ہونے والی ایک محفل میں ملک کے مختلف شہروں سے شعرا کا آن لائن شریک ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اگر مثبت مقصد کے لیے استعمال ہو تو وہ محبت کے پیغام کو کہیں زیادہ وسیع کر سکتی ہے۔
ایک چراغ جس کی روشنی پھیلتی گئی
اس تمام سفر کا ذکر کرتے ہوئے اس شخصیت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جس نے نعت کے اس مبارک چراغ کو روشن کیا: معروف نعت گو، درویش صفت شاعر اور انجمن کے بانی فقیر مصطفیٰ امیر نواز امیر رحمۃ اللہ علیہ۔
انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، مگر اس کے نیک کام باقی رہتے ہیں۔ کسی شخص کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ اس کی زندگی میں اس کا نام لیتے رہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کا لگایا ہوا پودا پھلتا پھولتا رہے۔
فقیر مصطفیٰ امیر رحمۃ اللہ علیہ نے جو پودا لگایا تھا، آج وہ 279 مشاعروں کے بعد ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ اس کی شاخوں پر نعت کے پھول کھلے ہیں، اس کے سائے میں شعرا بیٹھتے ہیں، نئی نسل نعت سنتی ہے، کتابیں رونمائی ہوتی ہیں، اہلِ علم گفتگو کرتے ہیں اور دلوں میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی حرارت پیدا ہوتی ہے۔
یہی زندہ ادبی ورثہ ہے۔
یہی اصل صدقۂ جاریہ ہے۔
رات گہری ہو چکی تھی۔ محفل اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی، مگر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی کے دل میں یہ محفل ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ جب پروفیسر حافظ محبوب احمد نے رقت آمیز دعا کی، سلام و صلوٰۃ کی صدائیں بلند ہوئیں تو یقیناً بہت سی آنکھیں نم تھیں اور بہت سے دل مدینے کی گلیوں میں پہنچ چکے تھے۔
اس کے بعد حاضرین میں فقیر مصطفیٰ امیر کا روایتی لنگر تقسیم ہوا۔ مٹھائی بھی بانٹی گئی، تحائف بھی پیش کیے گئے، کتابیں بھی تقسیم ہوئیں، مگر اس رات کا سب سے بڑا تحفہ شاید وہ کیفیت تھی جو ہر شخص اپنے دل میں لے کر واپس گیا۔
279واں مشاعرہ ختم ہوگیا، مگر عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی یہ محفل ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ نعت کی محفلیں گھڑیوں کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، وہ دلوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شہروں میں ایسی محفلوں کو صرف ادبی سرگرمی سمجھ کر نہ دیکھیں بلکہ انہیں اپنی تہذیبی، روحانی اور اخلاقی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جس معاشرے میں نبی کریم ﷺ کی محبت دلوں میں زندہ ہو، وہاں الفاظ بھی پاکیزہ ہوتے ہیں، رویے بھی مہذب ہوتے ہیں اور زندگی بھی مقصد آشنا ہوتی ہے۔
فیصل آباد کی سرزمین پر انجمن فقیرانِ مصطفیٰ ﷺ کا یہ سفر دراصل ایک ایسا سفر ہے جس کی منزل کوئی 280واں یا 300واں مشاعرہ نہیں۔ اس کی اصل منزل تو یہ ہے کہ ایک نسل سے دوسری نسل تک عشقِ رسول ﷺ کی وہ شمع منتقل ہوتی رہے جس کی روشنی کبھی مدھم نہ ہو۔
فقیر مصطفیٰ امیر رحمۃ اللہ علیہ نے جو چراغ جلایا تھا، اللہ کرے اس کی لو ہمیشہ بلند رہے۔
اللہ کرے نعت کے یہ پھول یونہی کھلتے رہیں۔
اللہ کرے فیصل آباد کی یہ بستی یونہی شہرِ نعت بنی رہے۔
اور اللہ کرے ہمارے دلوں میں وہ محبت ہمیشہ زندہ رہے جس کے بغیر ایمان کی دنیا بے رنگ ہے:
"راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ”
آمین یا رب العالمین۔
