Baaghi TV

کسی کو حال دل سنانے سے پہلے۔۔۔۔؟ تحریر: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

انسان اپنی ذات میں بڑا جذباتی ہے۔قدرت نے اُسےتجربات ، مشاہدات ، جذبات اور محسوسات کی حس عطا کر رکھی ہے۔انسان جسمانی ، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی اعتبار سے ایک دوسرے سے منفرد ہے۔ ہر انسان کے پاس اظہار و جذبات کا منظر نامہ ہے۔ وہ اپنے اوپر گزری ہوئی کیفیات اور مستقبل کی پیش گوئیاں بیان کرنے کے لیے اپنے قریبی ساتھی یا دوست کا سہارا لیتا ہے۔حالِ دل سُنانے کے لیے ہر انسان ایک دوسرے کا سہارا لیتا ہے۔وہ اپنے دِل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کسی ایک ایسے انسان کا انتخاب کرتا ہے جو اس کے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے۔انسان بنیادی طور پر ایک معاشرتی حیوان ہے۔اُسے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔اگر اس حقیقت کو قریب سے دیکھا جائے تو دُنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی مُشکل میں مبتلا ہے۔کوئی غربت کے ہاتھوں پریشان ہے ، کوئی قرضوں کے نیچے دبا ہوا ہے ، کوئی بیماریوں کے ہاتھ دُکھ اٹھا رہا ہے ، کوئی نفسیاتی طور پر بیمار ہے ، کوئی آزمائشوں کے چُنگل میں پھنسا ہوا ہے۔آپ کسی بھی انسان کی زندگی کا بغور مشاہدہ کر لیں۔ہر کوئی وقت کے ہاتھوں پریشان ہے۔کسی ایک انسان کی زندگی بھی پرسکون نہیں۔وقت مصروفیت اور تیزی نے انسان کو ثقافتی تہذیبی اور اخلاقی طور پر پست کیا ہے۔رہی سہی کسر مہنگائی اور بے روزگاری نے نکال کر رکھ دی ہے۔جدھر بھی جائیں ہر کسی کو تیزی کے مرض میں مُبتلا پائیں گے۔انسان زندگی کی دوڑ ایسی دوڑ رہا ہے جیسے اس کے لیے وقت ختم ہو گیا ہے۔یہ ایسی جذباتی کیفیت ہے جس میں بے چینی کی روح گُھسی ہوئی ہے۔ اُس کا حُلیہ بگڑا ہوا ہے۔اعصاب میں کپکپاہٹ ہے۔چال میں تیزی ہے۔ہر دن مصروفیت کی نظر ہو جاتا ہے۔دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔لیکن گزرا وقت ایک خیال کی طرح گزر جاتا ہے۔

یہ وقت کی عجیب سی داستان ہے۔جہاں زندگی کو اتنے زیادہ خطرات اور مُشکلات کا سامنا ہے۔ہر قدم با قدم مجبوریاں ہیں۔خوف و ہراس ہے۔تضادو تعارض کی فضا ہے۔اعتماد کا فقدان ہے۔یہاں کوئی رازدان نہیں۔سبھی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے ہیں۔ایک دوسرے کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔بس پتہ چلے اور وار کر دیا۔سادہ لوگ بیچارے اعتماد کے جھانسے میں آ کر اپنی باطنی کیفیات بیان کر دیتے ہیں۔انھیں کیا خبر کہ وہ جس شخص کو حال دِل سُنا رہے ہیں۔ کل وہی اسے بدنام کرے گا۔مذاق اڑائے گا۔ خاندانی طور پر بلیک میل کرے گا۔ہراسگی پہ اتر آئے گا۔گلی محلے میں شور مچائے گا۔عزت نفس مجروح کرے گا۔یہ کسی ایک شخص کی بات تو نہیں بلکہ پورے معاشرے کا المیہ ہے۔جہاں انسان، انسان کا دشمن ہے۔ خود غرضی نے جدائی کی دراڑیں ڈال دی ہیں۔ اتفاق کا نام و نشان نہیں ہے۔کیوں کہ اتحاد و یگانگت زبان تک محدود رہ گئی ہے۔عملی طور پر ہر کوئی الگ ہو چکا ہے۔ہر کو اپنی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔یہ منزل مستقبل ہے جس نے ہر کسی کو پریشان کر رکھا ہے۔لیکن کوئی کم بخت نہیں جانتا کہ اس کا کل کیسا ہوگا؟ وقت اس کے لیے کیا سندیسہ لے کر آئے گا۔پل بھر میں کچھ سنبھل یا بکھر جائے گا۔جو شخص وقت ، حالات اور موسم وہ سمجھ کر فیصلہ نہیں کرتا۔وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

انسانی نفسیات کا بھی اپنا رخ ہے۔وہ فوراً کسی کے دھوکے میں آ جائے یا عقل مندی کا مظاہرہ کرے۔یہ اُس کی ثواب دید ہے۔انسان کی نفسیات ایک ایسے ساحل پر کھڑی ہے۔جہاں خطرہ بھی ہے اور امید کا سہارا بھی۔اِن ساری باتوں کے باوجود بھی انسان کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جذباتی ہونے سے پہلے دوسرے کو پرکھ لے۔ آیا وہ قابل اعتماد بھی ہے کہ میں جس شخص کو حالِ دل سُنا رہا ہوں۔کل وہ میرے جذبات کو کس طرح کُچلے گا۔اُسے کس انداز سے دوسروں تک پہنچائے گا۔ایک کہاوت ہے کہ” بد سے بدنام برا "۔ یہ ایک سماجی بُرائی ہے جس کی تشہیر کے لیے چرب زبان فائدہ اٹھاتا ہے۔وہ احساس و جذبات کو ایسے کُچل دیتا ہے جیسے پاؤں کے نیچے کسی کیڑے کو کچل دیا ہو۔جب معاشرے میں ایسی ہوا چلی ہو تو اُن جھونکوں سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔اس سلسلے میں جذبات کو قابو میں رکھنا دانائی کا پہلا قدم ہے جو بے شمار پچیدگیوں سے بچانے کی قدرت رکھتا ہے۔

More posts