لاہور: شہر کے مختلف علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں پر تشدد کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 8 افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعات ہربنس پورہ اور شاہدرہ کے علاقوں میں پیش آئے، جہاں پولیو ٹیموں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شدید مزاحمت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہربنس پورہ میں انسدادِ پولیو ٹیم جب بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں مصروف تھی تو ملزمان نے نہ صرف ٹیم کے ارکان کو دھمکایا بلکہ ان پر تشدد بھی کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو ملزمان نے پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
اسی طرح شاہدرہ کے علاقے چمن کالونی میں بھی انسدادِ پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق وہاں ٹیم کے انچارج سمیت دیگر عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔پولیس کے مطابق دونوں واقعات میں 8 افراد ملوث پائے گئے ہیں، جن کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت، سرکاری اہلکاروں پر تشدد اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ٹیموں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔دوسری جانب شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے اور پاکستان کو پولیو فری بنانے کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
