رات کے آخری پہر جب شہر سو رہا تھا، سرحد کے قریب ایک چھوٹی سی بستی میں مٹی کے ایک سادہ سے گھر کے صحن میں چراغ اب بھی جل رہا تھا۔ چراغ کے قریب بیٹھی بوڑھی ماں کی انگلیاں تسبیح کے دانوں پر چل رہی تھیں، مگر اس کے ہونٹوں پر دعا سے زیادہ اپنے بیٹے کا نام تھا۔
’’عمران!‘‘
یہ نام اس کے لیے صرف ایک نام نہیں تھا۔ اس کی زندگی کا آخری سہارا، اس کی آنکھوں کی روشنی اور اس مٹی کی خوشبو تھا جسے وہ اپنا وطن کہتی تھی۔
صحن کے ایک کونے میں مٹی کا چھوٹا سا ڈھیر تھا۔ عمران جب بھی چھٹی پر گھر آتا، وہاں بیٹھ کر مٹی کو ہاتھ میں اٹھاتا، اسے سونگھتا اور مسکرا کر کہتا:
’’اماں! پتا ہے اس مٹی میں کیا ہے؟‘‘
ماں ہنس کر کہتی، ’’کیا ہے؟‘‘
وہ مٹھی کھول کر کہتا:
’’میرا پاکستان!‘‘
ماں اسے ڈانٹتے ہوئے کہتی، ’’مٹی بھی کوئی سونگھنے کی چیز ہے؟‘‘
عمران ہنس پڑتا۔
’’اماں! جس مٹی میں آدمی پیدا ہو، جس پر باپ کے قدموں کے نشان ہوں، جس میں اپنے بزرگ سوئے ہوں، جس میں پہلی بار چلنا سیکھا ہو، وہ مٹی صرف مٹی نہیں ہوتی۔ وہ ماں ہوتی ہے۔‘‘
ماں خاموش ہو جاتی۔
اس کے پاس عمران کی اس بات کا کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔
عمران بچپن ہی سے کچھ عجیب سا لڑکا تھا۔ دوسرے بچے کھلونوں کے لیے لڑتے، وہ گھر کے سامنے لہراتے سبز ہلالی پرچم کو دیکھ کر خوش ہوتا۔
جب بھی 14 اگست آتی، وہ صبح سویرے اٹھ کر گلی کے ہر دروازے پر کاغذ کے چھوٹے چھوٹے پرچم لگاتا۔
ایک دن اس کے والد نے پوچھا:
’’بیٹا! تمہیں پاکستان سے اتنی محبت کیوں ہے؟‘‘
عمران نے معصومیت سے کہا:
’’ابا! پاکستان میرے لیے بنایا گیا ہے نا؟‘‘
والد نے مسکرا کر کہا، ’’ہاں بیٹا۔‘‘
’’تو پھر میں بھی پاکستان کے لیے کچھ کروں گا۔‘‘
باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
اسے کیا معلوم تھا کہ یہ بچہ ایک دن واقعی پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دے گا۔
وقت گزرتا گیا۔
عمران جوان ہوا۔ اس کے ہاتھ میں کتاب کی جگہ بندوق آگئی، مگر دل میں وہی مٹی رہی۔
فوج میں بھرتی ہونے کا دن آیا تو ماں نے اسے سینے سے لگا لیا۔
’’بیٹا، کوئی اور کام نہیں مل سکتا تھا؟‘‘
عمران نے ماں کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا:
’’اماں! اگر سرحد پر کھڑا ہونے والا کوئی نہ ہو تو پھر ہمارے گھروں میں چراغ کون جلائے گا؟‘‘
ماں نے کچھ کہنا چاہا، مگر آواز گلے میں پھنس گئی۔
والد نے قرآنِ پاک اس کے ہاتھ میں دیا۔
’’بیٹا! بندوق ہاتھ میں رکھنا، مگر دل میں اللہ کو رکھنا۔‘‘
عمران نے باپ کے ہاتھ چوم لیے۔
’’ابا! دعا کرنا کہ اگر کبھی وطن اور میری جان میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو میرا انتخاب غلط نہ ہو۔‘‘
باپ نے بیٹے کی طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں پہلی بار خوف اتر آیا۔
پھر وہ دن آیا جسے تاریخ نے 6 ستمبر کے نام سے یاد رکھا۔
سرحد پر رات اچانک گہری ہوگئی تھی۔
دور کہیں توپوں کی گھن گرج سنائی دے رہی تھی۔
زمین کانپ رہی تھی۔
آسمان پر روشنی کی لکیریں بن رہی تھیں۔
عمران اپنی چوکی پر کھڑا تھا۔
اس کے ہاتھ میں بندوق تھی اور جیب میں ایک چھوٹی سی شیشی۔
اس شیشی میں اس کے گھر کی مٹی تھی۔
ماں نے رخصت کرتے وقت وہ مٹی اس کی جیب میں رکھ دی تھی۔
’’بیٹا! اگر کبھی وطن کی مٹی کی خوشبو یاد آئے تو اسے کھول لینا۔‘‘
عمران نے تب ہنس کر کہا تھا:
’’اماں! مجھے وطن کی مٹی یاد نہیں آئے گی، میں خود وطن کی مٹی ہوں۔‘‘
اب وہی جملہ اس کے ذہن میں گونج رہا تھا۔
اس نے شیشی نکالی۔
ڈھکن کھولا۔
مٹی کو ہتھیلی پر رکھا۔
چہرے کے قریب لے گیا۔
اور آنکھیں بند کر لیں۔
اسے اپنا گھر دکھائی دیا۔
ماں کا چہرہ۔
باپ کی جھکی ہوئی کمر۔
صحن کا نیم کا درخت۔
گلی کے بچے۔
مسجد کی اذان۔
کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں۔
اور سب سے بڑھ کر…
سبز ہلالی پرچم۔
عمران نے مٹی کو دوبارہ شیشی میں رکھا۔
اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
’’میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔‘‘
اس نے سرحد کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’اے میرے وطن!‘‘
صبح ہونے سے پہلے حملہ شدید ہوگیا۔
گولیاں برس رہی تھیں۔
عمران کے کئی ساتھی زخمی ہو چکے تھے۔
چوکی پر موجود سبز پرچم گولیوں اور دھماکوں کے درمیان بھی لہرا رہا تھا۔
اچانک ایک گولہ قریب آکر پھٹا۔
پرچم کا ڈنڈا ٹوٹ گیا۔
سبز پرچم زمین پر گر پڑا۔
عمران کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آگئی۔
’’پرچم!‘‘
وہ خندق سے باہر نکلنے لگا۔
ساتھی نے بازو پکڑ لیا۔
’’عمران! باہر موت ہے!‘‘
عمران نے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا:
’’موت سے ڈر کر اگر پرچم زمین پر پڑا رہے تو پھر ہم زندہ کس لیے ہیں؟‘‘
وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں دوڑ پڑا۔
ایک گولی اس کے کندھے کو چیر گئی۔
وہ لڑکھڑایا۔
پھر سنبھلا۔
دوسری گولی ٹانگ میں لگی۔
وہ گھٹنوں کے بل گر گیا۔
مگر اس کی نگاہ پرچم پر تھی۔
اس نے زمین پر ہاتھ رکھا۔
مٹی اس کی انگلیوں میں آگئی۔
اس نے مٹی کو چوما۔
’’ماں!‘‘
پھر پرچم اٹھایا۔
اسے اپنے سینے سے لگایا۔
اور آخری طاقت جمع کرکے ڈنڈے کو دوبارہ کھڑا کردیا۔
سبز ہلالی پرچم ایک بار پھر فضا میں لہرانے لگا۔
اسی لمحے ایک اور گولی اس کے سینے میں اتر گئی۔
عمران نے پرچم کی طرف دیکھا۔
اس کے ہونٹ ہلے:
’’اب… یہ نہیں گرے گا۔‘‘
اور وہ مٹی پر گر گیا۔
صبح کی پہلی کرن سرحد پر اتری تو پرچم پہلے سے زیادہ بلند تھا۔
اس کے نیچے عمران کا جسم پڑا تھا۔
اس کے سینے سے خون بہہ کر مٹی میں جذب ہو رہا تھا۔
لال خون…
سبز پرچم…
اور وطن کی مٹی۔
تینوں ایک ہی داستان بن چکے تھے۔
کئی دن بعد ایک فوجی گاڑی عمران کے گھر کے سامنے آکر رکی۔
ماں صحن میں بیٹھی تھی۔
اس نے گاڑی دیکھی تو جیسے اس کا دل رک گیا۔
ایک افسر آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا۔
ماں نے اس کے چہرے کو دیکھا۔
’’میرا بیٹا؟‘‘
افسر نے سر جھکا لیا۔
ماں نے کچھ لمحے اسے دیکھا۔
پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی۔
اس کی آنکھوں سے آنسو نکلے، مگر چہرے پر عجیب سا اطمینان تھا۔
’’شہید ہوگیا؟‘‘
افسر نے دھیمی آواز میں کہا:
’’جی اماں۔‘‘
ماں نے ہاتھ اٹھائے۔
’’یا اللہ! میرے بیٹے کو قبول فرما۔‘‘
پھر اچانک اس نے پوچھا:
’’پرچم؟‘‘
افسر نے کہا:
’’پرچم سلامت ہے، اماں۔‘‘
ماں نے آنکھیں بند کرلیں۔
’’پھر میرا بیٹا بھی سلامت ہے۔‘‘
افسر کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
عمران کی شہادت کے بعد برس بیت گئے۔
اس کی قبر پر ہر سال 6 ستمبر کو پھول رکھے جاتے۔
بچے آتے۔
اساتذہ آتے۔
فوجی افسر آتے۔
اور بوڑھی ماں بھی آتی۔
ایک دن ایک چھوٹا بچہ قبر کے پاس کھڑا ہو کر ماں سے پوچھ بیٹھا:
’’دادی! عمران انکل کہاں ہیں؟‘‘
ماں نے قبر کی مٹی پر ہاتھ پھیرا اور کہا:
’’بیٹا! وہ یہاں نہیں ہیں۔‘‘
بچے نے حیرت سے پوچھا:
’’پھر کہاں ہیں؟‘‘
بوڑھی ماں نے سامنے لہراتے سبز پرچم کی طرف اشارہ کیا۔
’’وہ وہاں ہیں۔‘‘
بچے نے پرچم کو دیکھا۔
’’پرچم میں؟‘‘
ماں مسکرائی۔
’’ہاں بیٹا! جس دن کسی شہید کا خون وطن کی مٹی میں اترتا ہے، وہ مٹی پھر صرف مٹی نہیں رہتی۔ وہ پرچم کی حرمت بن جاتی ہے۔‘‘
ہوا چلی۔
سبز پرچم لہرانے لگا۔
ماں نے قبر کی مٹی کو چوما۔
اور اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔
وہاں صرف فخر تھا۔
آج بھی 6 ستمبر آتا ہے تو پاکستان کی سرحدوں سے لے کر شہروں کی گلیوں تک ایک ہی سوال گونجتا ہے:
وطن کی حفاظت کون کرے گا؟
جواب کسی ایک سپاہی کا نہیں۔
جواب ہر اس شخص کے دل میں ہے جس نے کبھی پاکستان کی مٹی کو محبت سے چھوا ہے۔
یہ وطن صرف نقشے پر کھینچی ہوئی ایک لکیر نہیں۔
یہ ماؤں کی دعاؤں کا حاصل ہے۔
یہ باپوں کی امید ہے۔
یہ بچوں کے خواب ہیں۔
یہ کسان کے پسینے کی خوشبو ہے۔
یہ مزدور کے ہاتھوں کی محنت ہے۔
یہ شاعر کے لفظوں میں دھڑکتا عشق ہے۔
اور یہ ان شہیدوں کے لہو کی امانت ہے جنہوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھائیں مگر وطن کی پیشانی پر آنچ نہ آنے دی۔
لال خون سے سبز پرچم تک کا یہ سفر صرف تاریخ نہیں، ایک عہد ہے۔
وہ عہد کہ وطن کی مٹی ہماری شناخت ہے۔
وہ عہد کہ اس مٹی کی حرمت ہماری ذمہ داری ہے۔
وہ عہد کہ شہیدوں کا لہو ہمیں پکار رہا ہے۔
اور وہ عہد کہ جب تک پاکستان کا سبز ہلالی پرچم آسمان پر لہراتا رہے گا، عمران جیسے شہیدوں کی داستان بھی زندہ رہےگ گی۔
کیونکہ شہید مرتا نہیں۔
وہ مٹی میں اترتا ہے…
اور پھر اسی مٹی سے
سبز پرچم بن کر لہراتا ہے۔۔۔۔
عمران کے لیے شاید زندگی کا آخری لمحہ وہ تھا جب اس کے سینے سے بہتا ہوا لہو وطن کی مٹی میں جذب ہو رہا تھا، مگر حقیقت میں وہ لمحہ اس کی موت نہیں، اس کے امر ہو جانے کا لمحہ تھا۔ انسان اپنی زندگی میں جتنا بھی بڑا مقام حاصل کر لے، وقت کی گرد بہت کچھ مٹا دیتی ہے، مگر شہید کا خون تاریخ کے چہرے پر ایسی تحریر لکھ دیتا ہے جسے صدیوں کی ہوائیں بھی نہیں مٹا سکتیں۔
عمران نے وطن سے محبت کے دعوے نہیں کیے تھے، اس نے اپنی جان دے کر اس محبت کو سچ کر دکھایا۔ اس کے لہو کی ایک ایک بوند گواہی دیتی ہے کہ وطن محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ ماں کی دعا، باپ کی امید، بچوں کے خواب، بزرگوں کی قبریں اور آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔
اس نے آخری سانس لیتے ہوئے سبز پرچم کو دیکھا تو شاید اسے یقین ہوگیا تھا کہ اس کا جسم مٹی میں مل جائے گا، مگر اس کی محبت اسی مٹی سے پھوٹ کر ہمیشہ پرچم بن کر لہراتی رہے گی۔
عمران شہید چلا گیا، مگر ختم نہیں ہوا؛ وہ وطن کی مٹی میں اتر کر امر ہوگیا۔
آج جب سبز ہلالی پرچم ہوا کے دوش پر لہراتا نظر آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس میں کسی شہید کا لہو بول رہا ہو:
’’پاکستان سلامت رہے… یہی ایک شہید کی زندگی کا حاصل، شہادت کا صلہ اور شہید کی وطن سے محبت کی آخری گواہی ہے۔‘‘۔۔۔۔ کہ لال خون سبز پرچم کے دفاع پر قربان ہو گیا ۔۔۔۔۔
اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ۔۔۔۔۔۔۔
یومِ دفاع، لال خون سے سبز پرچم کا دفاع ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری
