Baaghi TV

چھ ستمبر ہم نے سرحد تو بچا لی،کیا وطن بھی بچا لیا۔تحریر : شمسہ رانی

چھ ستمبر آتا ہے۔ تو ہم شہداء کی قبروں پر پھول رکھتے ہیں۔ قومی نغمے سنتے ہیں اور فخر سے 1965 کی جنگ کی داستانیں دہراتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی تاریخ کو صرف یاد نہیں کرنا چاہیے اس سے سوال بھی کرنا چاہیے۔
آج جب ہم اپنے شہداء کو سلام پیش کر رہے ہیں. تو دل کے کسی گوشے سے ایک سوال اٹھتا ہے. جنہوں نے اس وطن کے سرحدوں کے لیے اپنی جانیں دے دیں کیا ہم نے اس وطن کے اندر ان کے خوابوں کی حفاظت کی ہے؟

1965 میں دشمن سرحد پار سے آیا تھا ۔قوم نے اسے پہچانا ،متحد ہوئی اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کھڑی ہوگی ۔پاک فوج، پاک، فضائیہ اور پاک بحریہ کے جوانوں نے شجاعت کی وہ داستان رقم کی کہ جسے تاریخ ہمیشہ احترام سے یاد کرے گی۔ میجر عزیز بھٹی شہید جیسے بہادر سپوتوں نے اپنے لہو سے وطن کی حفاظت کی قیمت ادا کی۔اس وقت پوری قوم ایک تھی۔ گھروں میں دعائیں تھیں ،سرحدوں پر جوان تھے۔ ہر دل میں پاکستان تھا۔ مگر اج کا منظر کچھ اور سوالات لے کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

آج دشمن ہماری سر حد پر نہیں، ہماری معاشرتی زندگی کے کئی گوشوں میں دکھائی دیتا ہے ۔کہیں جرم نے خوف پیدا کر رکھا ہے۔ کہیں نا انصافی نے امید چھین لی ہے۔ کہیں مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی اور کہیں معصوم بچے اور بیٹیاں تحفظ کے بنیادی حق کے لیے بھی ہماری توجہ کی منتظر ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا دفاع وطن صرف سرحد پر کھڑے سپاہی کی ذمہ داری ہے؟ یقینا نہیں۔

وطن کی حفاظت اس وقت بھی ہوتی ہے۔ جب ایک مظلوم کو انصاف ملتا ہے۔ جب ایک بچہ محفوظ ماحول میں بڑا ہوتا ہے۔ جب ایک بیٹی بلا خوف اپنے راستے پر چل سکتی ہے۔ جب قانون امیر اور غریب کے درمیان فرق نہیں کرتا ۔جب ریاست اپنے شہریوں کو صرف زندہ رہنے نہیں بلکہ باوقار زندگی گزارنے کا حق بھی دیتی ہے۔

ہمارے بزرگوں نے پاکستان صرف ایک جغرافیہ حاصل کرنے کے لیے نہیں بنایا تھا۔ اس کے پیچھے خواب تھا، ایسا وطن جہاں مسلمان آزادی سے اپنے دین پر عمل کر سکیں، جہاں انسان کی جان و مال محفوظ ہو، جہاں انصاف طاقتور کی جاگیر نہ ہو ،جہاں آنے والی نسلیں عزت اور امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں ۔1965 کے شہداء نے سرحدوں کی حفاظت کی۔ آج ہمیں پاکستان کے اندر موجود امن، انصاف ،قانون اور انسانی حرمت کی حفاظت کرنی ہے۔ یہی چھ ستمبر کا اصل سبق ہے۔

کیونکہ سوال یہ نہیں کہ ہم پاکستان کے لیے مرنے کو تیار ہیں یا نہیں ؟ سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان کو بہتر بنانے ے لیے جینے اور اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔؟
سرحد فوج محفوظ کرتی ہے، مگر وطن کی روح پوری قوم محفوظ کرتی ہے۔

More posts