چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کا 48واں اجلاس سپریم کورٹ میں منعقد ہوا، جس میں ملک کے عدالتی اور قانونی نظام میں اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور دیگر ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران کمیشن نے بینکاری تنازعات کے حل کے لیے متبادل طریقہ حل تنازعات (ADR) کا مجوزہ فریم ورک منظور کر لیا۔ اس فریم ورک کا مقصد بینکوں اور صارفین کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو عدالتوں سے باہر جلد، مؤثر اور کم لاگت طریقے سے حل کرنا ہے۔ کمیشن کی جانب سے مجوزہ قانونی ترمیم وفاقی حکومت کو مزید غور و خوض اور قانون سازی کے لیے بھجوائی جائے گی۔
بینکاری تنازعات سے متعلق یہ تجویز 30 اپریل 2026 کو ہونے والی ایک جامع مشاورتی نشست کے بعد تیار کی گئی تھی۔ اس مشاورت میں وزارت خزانہ، وزارت قانون و انصاف، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور بینکنگ محتسب کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ بار ایسوسی ایشنز، کاروباری تنظیموں اور دیگر متعلقہ اداروں نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔
اجلاس میں جاری قانونی اصلاحات پر پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ضابطہ فوجداری اور فیملی کورٹس ایکٹ سے متعلق تیار کردہ مسودہ تجاویز کمیشن کے ارکان کو ان کی آراء اور سفارشات کے لیے بھجوائی جائیں گی۔ بعد ازاں ان تجاویز کو حتمی شکل دے کر قانون سازی کے عمل کے لیے آگے بڑھایا جائے گا۔
کمیشن نے وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو حکومتی سطح پر زیر غور لانے اور ان پر پیش رفت کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متبادل طریقہ حل تنازعات کے فروغ سے نہ صرف عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا بلکہ عوام کو بھی جلد انصاف مل سکے گا۔
چیف جسٹس نے قانون سازی میں مسلسل اصلاحات، جدید کیس مینجمنٹ سسٹم اور عدالتی امور میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی تاخیر کم کرنے اور انصاف کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے جدید طریقہ کار اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات اور اصلاحات کی حمایت جاری رکھے گا جو انصاف کے نظام کو عوامی اور معاشرتی ضروریات کے مطابق مزید مؤثر اور قابل رسائی بنا سکیں۔
لا اینڈ جسٹس کمیشن نے بینکاری تنازعات کے نئے فریم ورک کی منظوری دے دی
