مہندی لگنا سب لڑکیوں کو اچھا لگتا ہے۔ ہر لڑکی چاہتی ہے کے میرے ہاتھ خوب صورت لگے اچھے لگے!مجھے بھی مہندی بہت اچھی لگتی ہے۔ یہ تو ہو گئی آپ کی اور میری پسند کی بات! آپ سوچ رہے ہوگے کہ آج کی تحریر میں کچھ پسند کی باتیں ہونگی۔ لیکن ایسا بلکل نہیں ہے۔ میں کچھ اور بات کرنے والی ہوں۔ اور وہ بات یہ ہے!
مہندی اور انسان ملی جلی کیفیت کے حامل ہوتے ہیں’ سوال یہ پیدا ہوتا ہے وہ کیسے؟ کہاں مہندی،اور کہاں انسان دونوں کا ذکر ایک ساتھ کیسے؟وہ ایسے کے جب ہم کسی بھی شخص سے ملتے ہیں،یا کوئی ہم سے ملتا ہے۔تو بہت تکلف ہوتا ہے کے سامنے والے کو کوئی بات بری نہ لگ جائے،اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں،اچھے طریقے سے ملتے ہیں۔یہ ہوئی پہلی ملاقات! اب جیسے جیسے کچھ لوگوں کی اصلیت ہمارے سامنے آتی جائے گی ہم بیزار ہونے لگتے ہیں۔ہمارا دل نہیں کرتا ملنے کو،بات کرنے کو! وجہ کیا ہوتی ہے؟ کہ شروع میں تو کافی اچھے بنتے تھے۔ اصل بات تو ملنے،اور جاننے کے بعد پتا چلتی ہے۔
"اسطرح جب نئی نئی مہندی لگتی ہے تو اس کا رنگ کتنا خوبصورت لگتا ہے”۔ جس کی وجہ سے ہاتھوں کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور جیسے جیسے اس کا رنگ پھیکا پڑنے لگتا ہے تو یہ بد صورت ہو جا تی ہے۔ بس یہی فکر لاحق ہوتی ہے کہ جلدی سے یہ اتر جائے اس کی وجہ سے ہاتھ برے لگتے ہیں۔۔۔۔ ایسا ہی ہے ناں؟؟؟
اب آپ بتایئں ہوئے نہ انسان اور مہندی ایک ہی کیفیت کے مالک؟
