نیویارک: امریکا کی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی سابق سینئر معاون اسٹیفنی ونسٹن وولکوف نے کہا ہے کہ وہ اب اپنی شناخت کو وائٹ ہاؤس یا ماضی کے سیاسی تنازعات تک محدود نہیں رکھنا چاہتیں بلکہ ٹیلی وژن پروڈکشن کے شعبے میں نئی پہچان بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیفنی ونسٹن وولکوف نے کہا کہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا صرف ایک باب تھا، پوری کہانی نہیں۔ ان کے بقول وہ اب ایسے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں جو لوگوں کو دوسری بار اپنی زندگی سنوارنے کی امید اور حوصلہ فراہم کریں۔وولکوف حال ہی میں ٹی وی پروجیکٹ "گن سلنگرز” کی پروڈیوسر رہ چکی ہیں، جبکہ ان کا نیا منصوبہ "دی ٹربل ود بلی” ہے، جس میں 1990 کی دہائی کے معروف اداکار ولیم میک نامارا اپنی زندگی سے متاثر ایک فرضی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سیریز میں بلی بالڈون اور رینڈل بیٹنکوف بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی زندگی کے مشکل ترین دور کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا تجربہ ہے، اسی لیے وہ سمجھتی ہیں کہ کسی بھی انسان کو اس کی زندگی کے ایک واقعے یا ایک غلطی کی بنیاد پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔
اسٹیفنی ونسٹن وولکوف ماضی میں میلانیا ٹرمپ کی قریبی دوست اور مشیر رہ چکی ہیں، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی صدارتی تقریبِ حلف برداری کے انتظامات سے متعلق مالی معاملات سامنے آنے کے بعد انہیں وائٹ ہاؤس چھوڑنا پڑا تھا۔ اس وقت وولکوف نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا اور انہیں سامنے آنے والی مجموعی رقم کا صرف ایک معمولی حصہ ملا تھا۔رپورٹس کے مطابق وولکوف ان دنوں نیویارک میں اپنے نئے ٹی وی شو کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اداکار ولیم میک نامارا کے ساتھ مختلف تقریبات میں شرکت کی، جبکہ گزشتہ ہفتے ایک خصوصی تقریب میں شو کے پریمیئر اور میک نامارا کی سالگرہ بھی منائی گئی۔
اس موقع پر وولکوف نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کی شناخت سیاست یا ماضی کی تلخیوں سے وابستہ رہے، بلکہ وہ ایسی کہانیاں تخلیق کرنا چاہتی ہیں جو لوگوں کو سرخیوں کے پیچھے موجود حقیقی انسان کو دیکھنے، دوسرا موقع دینے اور امید برقرار رکھنے کا پیغام دیں۔
