کولکتہ: بالی ووڈ کے معروف اداکار اور سیاستدان متھن چکرورتی معمولی سرجری کے بعد کولکتہ کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تسلی بخش ہے، خطرے سے باہر ہیں اور جلد انہیں اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کا امکان ہے۔
متھن چکرورتی کے اسپتال میں داخل ہونے کی خبر اس وقت سامنے آئی جب مغربی بنگال اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سوویندو ادھیکاری نے اسپتال جا کر ان کی عیادت کی۔ بعد ازاں انہوں نے ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے متھن چکرورتی کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
سوویندو ادھیکاری نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ متھن چکرورتی کی جمعرات کی شب معمولی نوعیت کی سرجری کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اداکار نے اپنی اسپتال میں داخلے کی خبر کو عوامی سطح پر ظاہر نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم اب ان کی صحت میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متھن چکرورتی صرف ایک سیاستدان ہی نہیں بلکہ بھارتی فلم انڈسٹری کی ایک ممتاز شخصیت بھی ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں تک اپنی اداکاری سے شائقین کے دل جیتے۔
متھن چکرورتی نے اپنے فلمی سفر کا آغاز 1976 میں فلم "مریگیا” سے کیا، جس پر انہیں بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ ملا۔ 1982 میں ریلیز ہونے والی فلم "ڈسکو ڈانسر” نے انہیں نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت دلائی۔
انہوں نے "پیار جھکتا نہیں”، "غلامی”، "اگنی پتھ”، "گرو” اور "دی کشمیر فائلز” سمیت متعدد کامیاب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اپنے طویل کیریئر کے دوران وہ کئی قومی فلم ایوارڈز اور فلم فیئر اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیں۔
فلموں کے علاوہ متھن چکرورتی نے ٹیلی وژن پر بھی نمایاں کامیابی حاصل کی، جہاں وہ "ڈانس انڈیا ڈانس” کے گرینڈ ماسٹر اور مختلف ریئلٹی شوز کے جج کے طور پر مقبول رہے۔
سیاسی میدان میں وہ ابتدا میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے تھے، تاہم 2016 میں صحت کی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہوئے اور مغربی بنگال میں پارٹی کی انتخابی مہم میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق متھن چکرورتی کی صحت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے اور امکان ہے کہ انہیں آئندہ چند روز میں اسپتال سے گھر منتقل کر دیا جائے گا۔
معروف بھارتی اداکار متھن چکرورتی سرجری کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج
