پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اطلاعات کے مطابق بہادر آباد میں ہونے والے پارٹی اجلاس کے بعد رہنماؤں اور کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی نے تصادم کی صورت اختیار کر لی۔
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار کے مطابق اجلاس کے اختتام پر دو گروپوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم پی اے اعجاز الحق اور رہنما ذاکر کے ساتھ دوسرے گروپ کے کارکنوں نے ہاتھا پائی کی۔ ان کے مطابق پارٹی کی رہنما منگلا شرما اور سبین غوری کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے بعد کارکنوں کی بڑی تعداد بہادر آباد کے دفتر کے باہر جمع ہو گئی، جہاں دونوں گروپوں کے حامیوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی۔ کچھ ہی دیر میں حالات مزید بگڑ گئے اور کارکنوں کے درمیان دھکم پیل اور تصادم شروع ہو گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق کشیدگی کے دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فائرنگ کی آوازیں سن کر شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جبکہ متعدد افراد نے محفوظ مقامات کی جانب رخ کیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی۔
تاحال پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے اس واقعے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اختلافات کے خاتمے کے لیے کوئی اندرونی مشاورتی عمل شروع کیا گیا ہے یا نہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات پارٹی کے تنظیمی معاملات اور سیاسی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق قیادت کو اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہوگا تاکہ جماعت کے کارکنوں اور عوام میں مثبت پیغام جا سکے۔
دوسری جانب واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جہاں صارفین پارٹی قیادت سے اندرونی اختلافات ختم کرنے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔