لاہور: پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں متعدد سڑکیں زیرِ آب آگئیں، زمینی رابطے منقطع ہوگئے جبکہ کئی علاقوں میں شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔
پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد برساتی ندی نالے بپھر گئے۔ یکبئی روڈ، درگ لہڑ ندی اور لینڑی لہڑ ندی میں شدید طغیانی کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق تونسہ موسیٰ خیل روڈ گنگیالی کے مقام پر زیرِ آب آچکی ہے، جبکہ دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
ادھر سرگودھا میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی۔ دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے اور برساتی نالوں کے اوور فلو ہونے سے پانی کھیتوں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، جس کے باعث متعدد فصلیں متاثر ہوئی ہیں اور کاشتکاروں کو مالی نقصان کا خدشہ ہے۔خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں شدید بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث ناران کو جھیل سیف الملوک سے ملانے والی مرکزی سڑک بدستور بند ہے، جس سے سیاحوں اور مقامی آبادی کی آمدورفت معطل ہے۔جنوبی وزیرستان لوئر میں سیلابی ریلوں نے تین کاز ویز بہا دیے، جس کے باعث مختلف دیہات کا زمینی رابطہ متاثر ہوا ہے۔ دوسری جانب گلگت بلتستان میں استور ویلی روڈ گزشتہ چھ روز سے بند ہے، جہاں سڑک کی بحالی کا کام جاری ہے۔ادھر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ بلتستان بھی بند ہوگئی ہے، جس سے متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ سڑکوں کی بندش کے باعث متاثرہ علاقوں میں خوراک، اشیائے ضروریہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہونے لگی ہے، جبکہ انتظامیہ بحالی کے کاموں میں مصروف ہے۔محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
