پاکستان کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر مسافروں کی مبینہ آف لوڈنگ اور رشوت طلبی کا سنگین معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا، جہاں عدالت نے الزامات کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو فوری تحقیقات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک شہری احتشام الحق نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہیں تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے کے باوجود آذربائیجان جانے والی پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق ان کا پاسپورٹ، ویزا اور دیگر امیگریشن دستاویزات بالکل درست تھیں، اس کے باوجود امیگریشن حکام نے انہیں سفر سے روک دیا،احتشام الحق نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا کہ امیگریشن حکام نے ان کے پاسپورٹ اور متعلقہ دستاویزات پر “Off-loaded” کی مہر ثبت کر دی اور بعد ازاں انہیں یہ کہا گیا کہ اگر وہ 80 ہزار روپے رشوت ادا کریں تو انہیں سفر کی اجازت دے دی جائے گی۔ درخواست گزار کے مطابق رشوت دینے سے انکار پر انہیں زبردستی واپس بھیج دیا گیا جس سے نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ ذہنی اذیت اور بدنامی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر ایسے واقعات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ قانون، آئین اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر مکمل اور شفاف تحقیقات کرائیں۔عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ الزامات میں ملوث افسران اور اہلکاروں کا تعین کیا جائے، واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور تحقیقات مکمل کر کے تفصیلی رپورٹ مقررہ وقت کے اندر عدالت میں جمع کرائی جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی اہلکار کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال یا رشوت طلبی کا ثبوت ملا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی،عدالت نے کیس کی مزید سماعت بعد کی تاریخ تک ملتوی کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
