Baaghi TV

میرا خواب،تحریر: نیہا علی

Kitchen and Me, written by: Neha Ali

حرا کمرے کے سامنے والی کھڑکی میں بیٹھی تھی۔ کتابیں اس کی گود میں تھیں اور وہ پچھلے تین گھنٹے سے وہیں بیٹھ کر پڑھائی کر رہی تھی۔ وہ سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کر رہی تھی۔ اس کا خواب کمشنر بننے کا تھا، کیونکہ اسے اپنے ملک کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا تھا۔وہ اپنے خاندان کی واحد لاڈلی بیٹی تھی، جو اتنی محنت سے پڑھتی تھی۔ ان کے خاندان میں لڑکیوں کو زیادہ پڑھایا نہیں جاتا تھا، مگر حرا نے اپنے بابا سے منتیں کرکے اپنی تعلیم جاری رکھی تھی۔ اس کا داخلہ اس کے والد خود کرواتے تھے اور وہ صرف پیپرز دینے جاتی تھی۔سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری وہ موبائل سے کر رہی تھی۔ وہ ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتی تھی۔ جس علاقے کا نام ولی والا تھا، اس کا باپ کھیتی باڑی کرکے اپنی بیٹی کو پڑھا رہا تھا۔ حرا جانتی تھی کہ اس کے بابا کی محنت صرف اس کی تعلیم کے لیے نہیں، بلکہ اس کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے بھی تھی۔
دن گزرتے گئے اور حرا کی محنت رنگ لاتی گئی۔ آخرکار وہ دن بھی آ گیا جب سی ایس ایس کا نتیجہ سامنے آیا۔ حرا نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پر اپنا رول نمبر درج کیا۔ نتیجہ دیکھتے ہی اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔
وہ کامیاب ہو چکی تھی!

حرا نے سب سے پہلے اپنے بابا کو آواز دی۔ بابا دوڑتے ہوئے آئے تو حرا نے موبائل ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ نتیجہ دیکھ کر ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ انہوں نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا
"بیٹی! آج تم نے صرف اپنا خواب پورا نہیں کیا، تم نے اپنے بابا کی محنت کو بھی کامیاب کر دیا ہے۔”
حرا مسکرائی۔ اس کی آنکھوں میں اب ایک نیا خواب تھا- اپنے علاقے کی ان تمام بیٹیوں کے لیے راستہ بنانا، جن کے خواب صرف اس لیے ادھورے رہ جاتے ہیں کہ انہیں پڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔اس دن حرا نے ثابت کر دیا کہ اگر حوصلہ بلند ہو، محنت سچی ہو اور والدین کا ساتھ ہو تو پسماندہ علاقے کی ایک کسان کی بیٹی بھی اپنے خوابوں کی تعبیر لکھ سکتی ہے۔

More posts