Baaghi TV

میرا تعارف ،ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

تمہید: ایک قلم کئی جہتیں ؛
ادب کسی عہد کے اجتماعی شعور، تہذیبی رویّوں اور انسانی احساسات کا آئینہ ہوتا ہے، جو قلم کار اپنے گردوپیش کی زندگی کو محض دیکھتا نہیں بلکہ اسے محسوس کرتا، سمجھتا اور لفظوں میں ڈھالتا ہے۔
وہ اپنے عہد کی ادبی تاریخ میں ایک الگ شناخت پیدا کرتا ہے۔ڈاکٹر شاہد ایم شاہد بھی ایسے ہی ادبی قافلے میں شامل ہیں جن کی علمی و ادبی شخصیت مختلف جہتوں سے عبارت ہے۔ ان کے ہاں ادب، صحافت، تعلیم، صحت، روحانیت اور معاشرتی شعور ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی فکری سلسلے کی مختلف کڑیاں محسوس ہوتے ہیں۔

25 مارچ 1979ء کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے شاہد مسیح نے ادبی دنیا میں ’’شاہد ایم شاہد‘‘ کے قلمی نام سے اپنی شناخت بنائی۔ ان کا تعلق ایک ایسے خطے سے ہے جس کی مٹی میں محنت، تہذیب، سادگی اور زندگی کی گہماگہمی رچی بسی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے فکری سفر میں عام انسان کی زندگی، اس کے مسائل، امیدیں، خواب اور روحانی و اخلاقی سوالات نمایاں طور پر جگہ پاتے ہیں۔

تعلیم: علم کی طرف ایک مسلسل سفر ؛
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی شخصیت کا بنیادی وصف ان کا علمی شغف ہے۔ انھوں نے اپنی تعلیم کو کسی ایک مرحلے پر محدود نہیں کیا بلکہ مختلف علمی مدارج طے کرتے ہوئے اپنے دائرۂ مطالعہ کو وسعت دی۔ میٹرک کی تعلیم بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد سے حاصل کرنے کے بعد انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایف اے اور بی اے کیا۔ ایف ایس سی کے لیے معادلہ سرٹیفکیٹ انٹر بورڈ کمیٹی چیئرمین اسلام آباد سے حاصل کیا، جب کہ بی ایس سی کی معادلہ ڈگری وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے حاصل کی۔
ان کی علمی زندگی کا اہم سنگِ میل ایم اے اردو ہے، جو انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا۔ اردو ادب کی یہ باقاعدہ تعلیم ان کے ادبی شعور کو علمی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ زبان، ادب، اسلوب اور تنقیدی فکر سے ان کی وابستگی اسی وسیع مطالعاتی پس منظر میں پروان چڑھی۔

تعلیم سے تربیت تک :
علم اگر کردار اور خدمت میں ڈھل جائے تو اس کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے علمی تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کو بھی اہمیت دی۔ انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کیا، جب کہ ڈی ایچ ایم ایس پنجاب ہومیوپیتھک میڈیکل کالج ڈگلس پورہ فیصل آباد سی پاس کیا اور نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی، حکومتِ پاکستان نے انہیں رجسٹرڈ ڈپلومہ جاری کیا۔
یہ امتزاج ان کی شخصیت کا ایک دل چسپ پہلو ہے۔ ایک طرف اردو زبان و ادب کا مطالعہ اور دوسری طرف تعلیم و صحت کا عملی شعور۔ یہی تنوع ان کے قلم کو ایک وسیع موضوعاتی دائرہ عطا کرتا ہے۔ ان کی تحریروں میں زندگی کو محض ادبی استعارے کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت کے طور پر دیکھنے کا رجحان محسوس ہوتا ہے۔

کتاب: فکر کے موتی اور تجربے کی روشنی ؛
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کا اصل تعارف ان کی تصانیف پڑھنے سے سامنے آتا ہے۔ان کی پہلی کتاب ’’بکھرے خواب اجلے موتی‘‘ 2019ء میں شائع ہوئی۔ یہ عنوان ہی اپنے اندر ایک علامتی کیفیت رکھتا ہے۔ خوابوں کا بکھرنا اور پھر انہی بکھرے خوابوں میں سے موتیوں کی تلاش دراصل انسانی زندگی کے تجربے، شکست و امید اور فکر و شعور کی ایک خوب صورت تمثیل بن جاتا ہے۔
2020ء میں ان کی دوسری کتاب ’’آؤ زندگی بچائیں‘‘ منظرِ عام پر آئی۔یہ عالمی دنوں پر مشتمل ہے جو عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام منائے جاتے ہیں۔اس کتاب میں دنوں کا تعارف ، بیماریوں کی مکمل تفصیل اور علاج و معالجہ درج ہے۔ اس عنوان میں محض صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ زندگی کی قدر، انسانی ذمہ داری اور اجتماعی شعور کا پیغام بھی پوشیدہ ہے۔ 2022ء میں تیسری تصنیف ’’گوہر افشاں‘‘،شائع ہوئی جس میں ادبی مضامین شامل ہے جو ہر انسان کو ایک ایسے جہان میں لے جاتے ہیں جہاں زندگی کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ چوتھی تصنیف ’’الفاظ و افکار‘‘ 2023ء میں شائع ہوئی۔آپ اسے یوں سمجھ لے جس میں ایک لفظ کی پانچ سمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک لفظ پانچ اقوال زریں جو لفظ کی حرمت اور آبیاری میں پیش پیش ایک دوسرے کا پیرا ہن پکڑ کر چلتے ہیں۔
الفاظ و افکار‘‘ جیسی تصنیف اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کے نزدیک لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ فکر کی ترسیل کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک اچھا لکھنے والا الفاظ کو سجاتا نہیں، بلکہ انھیں معنی بھی عطا کرتا ہے۔ اسی طرح ’’گوہر افشاں‘‘ اور ’’ابرِ گوہر‘‘ جیسے عنوانات میں تخلیقی جمالیات اور فکری معنویت کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
ان کی تحریروں کا ایک نمایاں پہلو مثبت اور تعمیری فکر ہے۔ وہ زندگی کے مسائل کو محض المیہ بنا کر پیش کرنے کے بجائے ان میں امید، اصلاح اور آگے بڑھنے کی گنجائش تلاش کرتے ہیں۔ یہی رویہ ان کے ادبی مزاج کو انسانی اور معاشرتی معنویت عطا کرتا ہے۔
2024ء میں پانچویں تصنیف ’’ابرِ گوہر‘‘ کی اشاعت نے ان کے تصنیفی سفر کو مزید وسعت دی۔اس کتاب میں چھوٹے چھوٹے نثری مضامین شامل ہیں جس کی تقریب رونمائی 10 اپریل 2025 کو اکادمی ادبیایات پاکستان میں منعقد ہوئی تھی۔ چھٹی تصنیف
’’نقوشِ زرنگار‘‘ اقوالِ زریں اور منظوم نگار پروفیسر ونسینٹ پیس عصیم سے متعلق ایک منفرد ادبی کاوش ہے۔
ان کتابوں کے عنوانات کو سامنے رکھا جائے تو ’’خواب‘‘، ’’زندگی‘‘، ’’گوہر‘‘، ’’الفاظ‘‘، ’’افکار‘‘ اور ’’ابر‘‘ اور نقوش جیسے الفاظ ایک ایسی فکری دنیا تشکیل دیتے ہیں جس میں جذبہ، خیال، تجربہ اور انسانی زندگی باہم مربوط دکھائی دیتے ہیں۔

زیرِ اشاعت کتب: موضوعات کی وسعت ؛
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی علمی سرگرمی ان کی شائع شدہ کتابوں تک محدود نہیں۔ ان کی متعدد کتب زیرِ اشاعت ہیں جن سے ان کے مطالعاتی اور موضوعاتی دائرے کا اندازہ ہوتا ہے۔
’’پھلوں کی افادیت‘‘ اور ’’کینسر سے بچیں‘‘ صحت اور عوامی آگاہی سے متعلق موضوعات ہیں۔ ’’پس پردہ‘‘ روحانی کالموں کا مجموعہ ہے ۔ ’’صحرا میں پھول‘‘ ادبی مضامین کا مجموعہ ہے جو ان کے تنقیدی اور فکری ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔ان کی ایک زیر طبع کتاب جو انشائیوں پر مشتمل ہے۔جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔
یہاں ایک اہم بات قابلِ توجہ ہے کہ ان کے موضوعات ایک ہی دائرے میں مقید نہیں۔ صحت سے روحانیت تک، اقوال سے ادبی مضامین تک، ان کی دل چسپی زندگی کے مختلف مظاہر کو اپنے حصار میں لیتی ہے۔

صحافت: عہد سے براہِ راست مکالمہ ؛
ادب جہاں انسان کے باطن سے مکالمہ کرتا ہے، صحافت اسے اپنے عہد کے مسائل سے جوڑتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے صحافت اور کالم نگاری کے میدان میں بھی مسلسل کام کیا ہے۔ ان کی تحریری وابستگی مختلف اخبارات و جرائد سے رہی ہے، جن میں روزنامہ آفتاب کوئٹہ/اسلام آباد، روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین، روزنامہ جنگ سنڈے میگزین، ہفت روز آگاہی کراچی، ماہنامہ معالج کراچی، ماہنامہ نیا تادیب لاہور، کرسچن نیوز الرٹ لندن اور پندرہ روزہ کیتھولک نقیب لاہور شامل ہیں۔
مختلف اخبارات و رسائل میں لکھنے کا تجربہ ان کے قلم کو مختلف طبقات، موضوعات اور قارئین سے جوڑتا ہے۔ کالم نگاری میں روزمرہ زندگی، معاشرتی مسائل، انسانی رویّوں اور فکری موضوعات کو عام فہم انداز میں پیش کرنا ایک اہم ادبی و صحافتی خدمت ہے۔

ڈیجیٹل عہد اور اردو کا نیا قاری ؛
وقت کے ساتھ ابلاغ کے ذرائع تبدیل ہوئے تو ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے بھی اپنے قلم کو ڈیجیٹل دنیا تک وسعت دی۔ مکالمہ، ہم سب، پرتلپی، تادیب ڈاٹ او آر جی اور دی وائٹ پوسٹ ڈاٹ کام ، روزنامہ پہچان پاکستان ، باغی رائٹر فورم جیسی ویب سائٹس پر ان کی تحریروں کی اشاعت اس بات کی علامت ہے کہ وہ جدید ذرائع ابلاغ کی اہمیت سے واقف ہیں۔
آج کا قاری صرف کتاب اور اخبار تک محدود نہیں۔ وہ موبائل اسکرین پر پڑھتا ہے، مختصر وقت میں مختلف موضوعات سے گزرتا ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے سے اردو تحریر تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ ایسے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم اردو قلم کار کے لیے ایک نئی ادبی بستی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

علمی و ادبی دنیا میں پذیرائی :
کسی ادیب کے لیے اس سے بڑھ کر علمی اعتراف کیا ہوگا کہ اس کی کتابیں باقاعدہ تعلیمی و تحقیقی مطالعے کا موضوع بنیں۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی دو کتب ’’بکھرے خواب اجلے موتی‘‘ اور ’’گوہر افشاں‘‘ کا مطالعاتی تجزیہ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کی بی ایس اردو کی طالبہ عنبرین پطرس نے اپنے مقالے کے طور پر کیا۔
یہ واقع ان کی ادبی خدمات کی ایک اہم جہت سامنے لاتا ہے۔ جب کسی تخلیق کو یونیورسٹی کی سطح پر تحقیق و مطالعے کے قابل سمجھا جائے تو اس کے ادبی وجود کو ایک نئی معنویت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے یہ امکان بھی پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں ان کی دیگر تصانیف پر بھی تحقیقی کام سامنے آئے۔

اعزازات: اعترافِ قلم ؛
ادبی سفر میں ایوارڈز منزل نہیں ہوتے، مگر وہ اہلِ قلم کی خدمات کے اجتماعی اعتراف کی علامت ضرور بنتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کو مختلف اوقات میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
پاکستان کرسچن رائٹرز گلڈ واہ کینٹ کی جانب سے 2011ء میں ’’بیسٹ کالمسٹ ایوارڈ‘‘ اور 2016ء میں ’’جرنلسٹک سروسز ایوارڈ‘‘ دیا گیا۔ 2018ء میں ’’بی ایم حسرت ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ 2019ء میں ایٹرنل لائف منسٹری پاکستان اور آئزک ٹیلی ویژن لاہور کی جانب سے ’’بیسٹ کالمسٹ اینڈ جرنلسٹ ایوارڈ‘‘ حاصل کیا۔2025 میں روزنامہ پہچان پاکستان کی طرف سے عہد ادیب ایوارڈ دیا گیا۔
ان کی تصانیف کی تقریباتِ رونمائی بھی ان کی علمی و ادبی پذیرائی کا باعث بنیں۔ ’’بکھرے خواب اجلے موتی‘‘، ’’آؤ زندگی بچائیں‘‘ اور ’’گوہر افشاں‘‘ کی تقریبات کے مواقع پر انہیں تعریفی، تحسینی اور تہنیتی اعزازات سے نوازا گیا۔

ادب، معاشرہ اور انسانی ذمہ داری :
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی ادبی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا سماجی شعور ہے۔ ان کے ہاں ادب زندگی سے کٹا ہوا کوئی مجرد فن نہیں بلکہ انسانی مسائل اور معاشرتی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا عمل محسوس ہوتا ہے۔ صحت کے موضوع پر تحریر ہو یا روحانی کالم، ادبی مضمون ہو یا فکری تحریر، ان کے موضوعات میں انسانی زندگی کی بہتری کا جذبہ نمایاں ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ادب محض تفریح نہیں رہتا بلکہ تہذیبی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ ایک قلم کار اپنے عہد کے انسان کو سوچنے، سوال کرنے، بہتر زندگی کی تلاش اور مثبت اقدار کی طرف متوجہ کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی قلمی کاوشوں میں یہی رویہ نمایاں نظر آتا ہے۔

اختتامیہ: سفر ابھی جاری ہے ؛
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی علمی و ادبی زندگی کو ایک مسلسل سفر سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ فیصل آباد کی سرزمین سے اٹھنے والا یہ قلم تعلیم کے مختلف مدارج طے کرتا ہوا اردو ادب تک پہنچا، پھر صحافت اور کالم نگاری کے میدان میں سرگرم ہوا اور اب مطبوعہ ادب کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اپنا وجود منوا رہا ہے۔
ان کی تصانیف، زیرِ اشاعت کتب، صحافتی وابستگیاں، تحقیقی مطالعے اور اعزازات ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کے مختلف نقوش ہیں۔ تاہم کسی بھی صاحبِ قلم کی اصل قدر اس کے اعزازات سے زیادہ اس کے قلم کے تسلسل میں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کے ہاں یہ تسلسل موجود ہے۔
ان کی شخصیت کو ’’لفظ، فکر اور خدمت‘‘ کے تین دائروں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ لفظ ان کا وسیلہ ہے، فکر ان کا موضوع اور انسانی و معاشرتی خدمت ان کے قلم کا ایک بنیادی مقصد دکھائی دیتی ہے۔ یہی امتزاج انہیں ایک ایسے معاصر قلم کار کے طور پر سامنے لاتا ہے جو ادب کو زندگی سے جوڑنے، زندگی کو شعور سے آشنا کرنے اور شعور کو مثبت انسانی اقدار میں ڈھالنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
اردو ادب کی یہ بستی وسیع ہے اور اس میں ہر عہد اپنے نئے لہجے، نئے سوالات اور نئے قلم کار پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد بھی اسی عہد کے ایک سرگرم اہلِ قلم ہیں جن کے لفظ ابھی سفر میں ہیں، جن کے موضوعات ابھی وسعت پذیر ہیں اور جن کے قلم سے آنے والے وقت میں مزید علمی و ادبی کاوشوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔

More posts