Baaghi TV

مخالفین مریم نواز کے بیان کو توڑ مروڑ کر نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،مریم اورنگزیب

fedral minister

مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نجی لندن دورے کے لیے سرکاری جہاز استعمال کرنے اور دہشتگردی سے متعلق بیان کو مخالفین مریم نواز کے بیان کو توڑ مروڑ کر نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں سینیئر وزیر نے کہا کہ اصل مسئلہ نہ تو جہاز کے استعمال کا ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ کے بیان کا بلکہ اصل مسئلہ ان کی کارکردگی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے،مریم نواز اس دورے کے تمام اخراجات خود برداشت کریں گی اور یہ واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ لندن کے سفر کے اخراجات مریم نواز کو خود ادا کرنے ہوں گے۔

مریم اورنگزیب نے پاکستان تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا کہ جو لوگ وزیراعلیٰ کے بیان کو صوبوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور ملک میں تفریق پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں انہیں عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب پر گزشتہ ہفتے اپنے لندن دورے کے دوران مبینہ طور پر سرکاری جہاز استعمال کرنے پر تنقید کی جا رہی ہے جو ان کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ماہ نور صفدر کی سواس یونیورسٹی لندن سے انتھروپولوجی میں گریجویشن کی تقریب کے سلسلے میں کیا گیا تھا،یہ بیان اس تنقید کے جواب میں سامنے آیا جو وزیراعلیٰ کے اس ریمارکس پر کی جا رہی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب کو ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں ہمسایہ صوبوں سے زیادہ سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

جس کے بعد اس سے قبل جمعے کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی نے اکثریتی رائے سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں صوبوں سے متعلق مریم نواز کے ’جانبدارانہ‘ بیان کی مذمت کی گئی تھی۔خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون آفتاب عالم کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں ایوان نے مریم نواز، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنا اللہ اور پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کو پنجاب میں دہشتگردی سے جوڑنے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے کی مذمت کی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف حقائق کے برخلاف اور غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ سیاسی مفادات پر مبنی بھی ہیں اور یہ صوبے کے پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کی توہین کے مترادف بھی ہیں، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں، دہشت گردی جیسے قومی اور حساس معاملے کو سیاسی رنگ دینا اور ایک صوبے کو دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا قومی یکجہتی اور وفاقی جذبے کے خلاف ہے، دہشتگردی کسی ایک صوبے یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کے لیے ایک چیلنج ہے جس سے صرف قومی یکجہتی، باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔

More posts