نئے وفاقی بجٹ میں بھی وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی نااہلی کا بوجھ غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا، حکومت نے آئی ایم ایف کو 860 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرادی۔
آئی ایم ایف کے دباؤ پر پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی بند کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا گیا، نئے بجٹ کا حجم 17 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔معیشت سست روی کا شکار ہے، مہنگائی پہلے ہی ڈبل ڈیجیٹ تک پہنچ گئی، رپورٹ کے مطابق 6 ماہ میں 7 ہزار ارب، جون تک 15 ہزار 267 ارب ٹیکس وصولی کا پلان ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث توانائی اور ایندھن کی قیمتیں نئی بلندیوں پر جانے کا خدشہ ہے، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کا 430 ارب کا اضافی بوجھ ڈالنے کا پلان ہے۔وفاقی حکومت لیوی کی مد میں عوام سے 260 ارب اضافی بٹورے گی، 215 ارب اضافی ٹیکس، باقی 215 ارب آڈٹ، سخت نگرانی سے ملیں گے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی مد میں اضافی 2 ہزار ارب جمع کرنے پر زور دیا ہے۔
