قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے ایک بڑے مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے حیدرآباد میں اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کی بیوہ سے 2 ارب 67 کروڑ روپے کی ریکوری کرلی ہے۔
نیب کے مطابق گریڈ 18 کے افسر مشتاق کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ نے سال 2025 میں پلی بارگین کی درخواست دی، جسے منظور کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر بنائے گئے تمام اثاثے سرکار کو واپس لے لیے گئے۔ ریکور کیے گئے اثاثوں میں اربوں روپے مالیت کی کمرشل پراپرٹیز، زرعی زمینیں، سونا، لگژری گاڑیاں، اور معروف برانڈز کو کرائے پر دی گئی دکانوں کا وسیع نیٹ ورک شامل ہے۔
نیب کا کہنا ہے کہ پلی بارگین کے بعد تمام اثاثے سندھ حکومت کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جس سے سرکاری خزانے کو بڑا ریلیف ملا ہے۔ یہ ریکوری صوبے میں بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
نیب کی بڑی کارروائی، کرپشن کیس میں 2 ارب 67 کروڑ روپے کی ریکوری
