Baaghi TV


توشہ خانہ کے نئے قواعد تیار، تحائف جمع نہ کرانے پر پانچ گنا جرمانے کی تجویز

Tosha Khana

‎وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دے دی ہے، جنہیں منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ مجوزہ قواعد کی منظوری کے بعد انہیں سرکاری گزٹ میں شائع کر کے باقاعدہ نافذ کیا جائے گا۔
‎کابینہ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق نئے فریم ورک کے تحت ہر عوامی عہدے دار پر لازم ہوگا کہ وہ سرکاری ذمہ داریوں کے دوران موصول ہونے والا کوئی بھی تحفہ 30 روز کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرائے۔ اگر کوئی عہدے دار مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہیں کراتا تو اس پر تحفے کی مارکیٹ قیمت سے پانچ گنا تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
‎ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف مالی جرمانہ ہی نہیں بلکہ ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جائے گی جو نئے قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جائیں گے۔ حکومت کا مقصد توشہ خانہ کے نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور جوابدہ بنانا ہے تاکہ سرکاری تحائف کے استعمال سے متعلق تمام معاملات واضح اور قانون کے مطابق انجام دیے جا سکیں۔
‎مجوزہ قواعد کے مطابق توشہ خانہ میں جمع ہونے والے تمام تحائف کھلی عوامی نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔ اس سے قبل مخصوص افراد کو تحائف خریدنے کی اجازت دی جاتی تھی، تاہم نئے نظام میں حکومت سے تنخواہ، الاؤنس یا کسی بھی نوعیت کے مالی فوائد حاصل کرنے والے افراد توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کے اہل نہیں ہوں گے۔
‎حکومت نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ عوامی نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی ملک کے پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی بنیادی تعلیم کے فروغ پر خرچ کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری تحائف سے حاصل ہونے والے وسائل کو سماجی ترقی اور تعلیمی شعبے میں استعمال کرنا ہے۔
‎نئے قواعد کا اطلاق تمام عوامی عہدے داروں کے ساتھ ساتھ ان نجی افراد پر بھی ہوگا جو کسی سرکاری وفد کے ہمراہ سرکاری دوروں میں شریک ہوں گے۔ یہ قواعد توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2024 کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔
‎ذرائع کے مطابق قانون کی منظوری کے بعد ان قواعد کی تیاری میں دو سال سے زائد کا وقت لگا۔ اب وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد ان پر باضابطہ عمل درآمد شروع کیا جائے گا، جس سے توشہ خانہ کے نظام میں شفافیت اور احتساب کو مزید مضبوط بنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

More posts