Baaghi TV

برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم اینڈی برنہم کی نئی کابینہ کا اعلان

لندن: برطانیہ میں سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں اینڈی برنہم نے بادشاہ سے ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے اپنی نئی کابینہ کا اعلان بھی کر دیا، جس میں کئی حیران کن تقرریاں، اہم وزارتوں میں رد و بدل اور سابق وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھیوں کو کابینہ سے باہر کر دیا گیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اینڈی برنہم گزشتہ ایک دہائی کے دوران برطانیہ کے ساتویں وزیرِاعظم بن گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکومت میں سابق وزیرِ دفاع جان ہیلی کو وزیرِ خزانہ مقرر کر کے سب کو حیران کر دیا۔ جان ہیلی کو معاشی نظم و ضبط، مالیاتی استحکام اور دفاعی اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنے کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔نئی کابینہ میں سابق وزیرِ توانائی ایڈ ملی بینڈ کو ترقی دے کر وزیرِ خارجہ بنایا گیا ہے، جبکہ ایویٹ کوپر کو وزیرِ صحت مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح انجیلا رینر کو ایک مرتبہ پھر وزیرِ ہاؤسنگ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ برس ٹیکس معاملات پر وزارتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے باعث اسی عہدے سے مستعفی ہوئی تھیں، تاہم اب انہیں دوبارہ حکومت میں شامل کر لیا گیا ہے۔جوناتھن رینالڈز کو دوبارہ بزنس اور تجارت کا قلمدان دیا گیا ہے، جبکہ ان کی وزارت کو مزید وسعت دے کر سائنس اور جدت بھی اس میں شامل کر دی گئی ہے۔ نئے محکمے کا نام ڈیپارٹمنٹ آف بزنس، انوویشن، سائنس اینڈ ٹریڈ رکھا گیا ہے۔وزیرِ تعلیم بریجٹ فلپسن کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تعلیم کی وزارت اب لیبر پارٹی کی نائب رہنما لوسی پاول کے سپرد کر دی گئی ہے، جبکہ فلپسن صرف خواتین اور مساوی مواقع کے امور کی وزیر کے طور پر کابینہ میں موجود رہیں گی۔ مبصرین اسے ان کی واضح سیاسی تنزلی قرار دے رہے ہیں۔

اینڈی برنہم نے اپنی حکومت میں سابق وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر کے متعدد قریبی ساتھیوں کو شامل نہیں کیا۔ سابق وزیرِ خزانہ ریچل ریوز، سابق وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی اور ڈیرن جونز سمیت متعدد سینئر شخصیات اب حکومتی بینچوں کے بجائے پارلیمنٹ کی بیک بینچ نشستوں پر واپس چلی گئی ہیں۔

وزیرِ خزانہ بننے کے بعد جان ہیلی نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ برطانیہ اپنے بین الاقوامی اتحادیوں، خصوصاً نیٹو، کے ساتھ دفاعی وعدوں کو پورا کرے گا۔انہوں نے بینک آف انگلینڈ کے گورنر سے بھی رابطہ کیا اور کہا کہ حکومت کا مقصد برطانوی عوام کے لیے زندگی کو مزید سستا اور معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

اقتدار سنبھالتے ہی اینڈی برنہم نے سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ انہوں نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے، جرمن چانسلر فریڈرش مرز، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ان رابطوں میں یوکرین کی جنگ، یورپی سلامتی، برطانیہ اور یورپی یونین کے تعلقات، دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ برنہم نے برطانیہ اور یورپی ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو اپنی حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم نے کابینہ کی تشکیل کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی الگ سیاسی شناخت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جان ہیلی کی غیر متوقع تقرری، انجیلا رینر کی واپسی اور اسٹارمر کے کئی بااثر اتحادیوں کو کابینہ سے باہر رکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی حکومت پارٹی کے اندر طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں برطانیہ کی معاشی پالیسی، دفاعی اخراجات اور یورپ کے ساتھ تعلقات نئی حکومت کے لیے اہم امتحان ثابت ہوں گے۔

More posts