اوپیک ممالک نے عالمی منڈی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل پیداوار کم کی جائے گی۔ یہ فیصلہ جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور اس کا مقصد عالمی مارکیٹ میں استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اوپیک کے ترجمان نے بتایا کہ اس فیصلے کی حمایت سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان سمیت اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک نے کی ہے۔ ان ممالک کا ماننا ہے کہ پیداوار میں کمی سے سپلائی اور طلب کے درمیان توازن بہتر ہوگا۔
اوپیک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک عالمی تیل مارکیٹ کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جا سکیں۔ تنظیم کے مطابق یہ ایڈجسٹمنٹ نہ صرف قیمتوں میں استحکام لانے میں مدد دے گی بلکہ رکن ممالک کو اپنی پیداوار اور برآمدات کو بہتر انداز میں منظم کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک پر جو تیل درآمد کرتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے جبکہ برآمد کنندہ ممالک کے لیے یہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
اوپیک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے اور طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ عالمی توانائی نظام متوازن رہے۔
اوپیک کا تیل پیداوار کم کرنے کا فیصلہ، جون سے اطلاق
