مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران جنگ کے اثرات اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی تجارت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، ایسے میں شام نے ایک اہم تجویز پیش کرتے ہوئے خود کو عالمی توانائی اور تجارتی نقل و حمل کے لیے متبادل راہداری کے طور پر پیش کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ ترکی اور قبرص میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے اجلاس کے دوران شام کے صدر احمد الشرع نے یہ تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام اپنے جغرافیائی محل وقوع کو استعمال کرتے ہوئے خلیجی ممالک کو ترکی کے ساتھ جوڑنے اور بحیرۂ روم تک محفوظ رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک نیا روٹ بنا سکتا ہے۔
شامی صدر کے مطابق یہ راہداری نہ صرف توانائی کی ترسیل بلکہ مال برداری کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں روایتی بحری راستوں کو خطرات لاحق ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ شام کے اس منصوبے کو دیگر بڑے منصوبوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے، جن میں انڈیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان مجوزہ اقتصادی راہداری (IMEC) بھی شامل ہے، جو پہلے ہی عالمی توجہ حاصل کر چکی ہے۔
شام اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ’فور سیز‘ اور ’فور پلس ون‘ جیسے علاقائی تعاون کے منصوبوں کو بھی فروغ دے رہا ہے، جن کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں تجارتی راستوں کو متنوع بنانے میں مدد دے گا بلکہ عالمی توانائی سپلائی چین پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
شام کی نئی تجویز، خود کو عالمی توانائی راہداری بنانے کا اعلان
