Baaghi TV

سوئس رپورٹ نے ’آپریشن سندور‘ میں بھارت کے کھوکھلے دعووں کا بھانڈا پھوڑ دیا

سوئس رپورٹ کے مطابق بھارت کے میڈیا میں دعوے کے برعکس، ابتدائی مرحلے میں بھارتی فضائیہ کو پاکستان کی طرف سے اہم حکمت عملی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا –

سوئس عسکری مورخ ادریئن فونٹانیلاز کی تحقیق ’آپریشن سندور انڈیا –پاکستان ایئر وار (7–10 مئی 2025)‘ میں بھارت اور پاکستان کے مئی 2025 کے فضائی تصادم کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے رپورٹ میں 7 مئی 2025 کی ابتدائی رات کی فضائی لڑائی میں بھارت کو ٹیکٹیکل نقصان کا سامنا قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے J-10C اورJF-17 طیاروں کے ساتھ PL-15 میزائل اور ممکنہ طور پر HQ-9/16 SAMs کے استعمال سے متعدد بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں کم از کم ایک رافیل، ایک میرِایج 2000 اور ایک MiG-29UPG یا Su-30MKI شامل ہےپاکستانی فضائیہ نے اپنی مہارت سے بھارتی طیاروں کو ہتھیار گرانے پر مجبور کیا، جس میں ایک براہموس میزائل بھی سالم زمین پر ملا۔ بھارتی طیارے کم ارتفاع پر اور اچانک حملے کرکے خود کو خطرے میں ڈالتے رہے، جس سے نقصان ہوا۔ پاکستان کو بھارت کی حملوں پر حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ فضائی دفاعی مشقیں پہلے ہی کی گئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے PL-15 میزائل کی رینج اور صلاحیت کو کم تر اندازہ کیا، اور 2019 کے تجربات (بالاکوٹ) پر زیادہ اعتماد کیا رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی ابتدائی اطلاعات اور عالمی ذرائع میں معلومات کی کمزوری نے پاکستان کو ابتدائی مرحلے میں سبقت دیبھارت کی کارروائیوں نے 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خطرات کو بڑھایا۔ پاکستان نے مؤثر اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کی، جبکہ بھارت ابتدائی طور پر اطلاعاتی میدان میں پیچھے رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رافیل کے نقصان کی علامتی اہمیت نے بھارت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگایا، اور پاکستان کو پبلک ریلیشن میں اہم فائدہ حاصل ہوا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ بھارت کی کارروائیوں نے پاکستان کی فوجی صلاحیت، سفارتی تعلقات اور عالمی اثر و رسوخ کو متاثر نہیں کیا۔

سوئس تجزیہ کار نے رپورٹ میں بتایا کہ بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا زیادہ تر میڈیا اور سیاسی تاثر پر مبنی تھا، جبکہ عملی میدان میں پاکستان کی حکمت عملی، پیشگی تیاری اور مؤثر دفاعی اقدامات نے ابتدائی نقصان کا تدارک کیا اور علاقائی توازن قائم رکھا، ایٹمی ریاستوں کے درمیان کاررو ائیوں کے اثرات کا جائزہ لینے اور محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اور اس ضمن میں پاکستان کی حکمت عملی عالمی نقطہ نظر سے قابل ذکر رہی۔

More posts