سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے علاقے بگرام میں اپنے اہم ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جہاں دہشت گردوں کے اسلحہ اور گولہ بارود کی سپورٹ سے متعلق انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کی جارہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا میں ہونے والے دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغان طالبان رجیم کے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ اسی تناظر میں آپریشن غضب للحق جاری ہے جس کا مقصد افغان عوام نہیں بلکہ صرف دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جارہی ہیں اور کسی بھی مقام پر شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا جارہا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ اسٹرائیکس کے دوران ٹی ٹی پی کی مڈ لیول قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ افغان طالبان رجیم کے خلاف اب تک پچاس سے زائد کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بائیس دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ باجوڑ، ترلائی مسجد اور وانا میں ہونے والے حملوں میں افغان طالبان کے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اب تک افغانستان میں ٹی ٹی پی کی دو سو چھبیس چیک پوسٹیں تباہ کرچکا ہے جبکہ چھتیس چیک پوسٹوں پر قبضہ بھی کیا جاچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو اگر مکمل طور پر سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا جائے تو وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں کسی خاص حکومت سے سروکار نہیں بلکہ مقصد صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
ذرائع کے مطابق تیراہ میں بڑے پیمانے پر کوئی آپریشن نہیں کیا جا رہا بلکہ وہاں بھی انٹیلی جنس بنیادوں پر محدود کارروائیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کی سرپرستی اور افغانستان میں موجود عناصر کا کردار بھی شامل ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ایران کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود ملک کی عسکری طاقت عالمی سطح پر مضبوط سمجھی جاتی ہے اور پاکستان کے چین، روس اور امریکا سمیت کئی اہم ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ افغانستان ہمسایہ ملک ہے اور اس کے ساتھ رابطہ بھی برقرار رہتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بگرام میں کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے اسلحہ سپورٹ کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا اور پاکستان نے اپنے طے شدہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک دہشت گردی کے خطرات ختم نہیں ہوتے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان نے بگرام میں ہدف حاصل کرلیا، دہشت گردوں کا اسلحہ سپورٹ انفراسٹرکچر تباہ
